العودة إلى قائمة الفتاوىمکرمی و محترمی حضرت مولانا ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! صورتحال یہ ہے کہ ابھی تک ایف آئی اے کے پاس 4000 کے قریب توہینِ قرآن، توہینِ رسالت ﷺ، توہینِ اہلِ بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور توہینِ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی شکایات درج ہو چکی ہیں۔ جن میں سے ابھی تک صرف 119 کے خلاف مقدمات درج ہو سکے ہیں اور ان مقدمات میں 400 سے زیادہ مجرم گرفتار بھی ہو چکے ہیں مگر ان کے خلاف مقدمات بڑی سست روی کا شکار ہیں۔ میرے لیے یہ بات نہایت پریشان کن ہے کہ قرآن پاک کے 29 نسخے حکومت کی تحویل میں پلیدی میں پڑے ہوئے ہیں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ہماری رہنمائی کی جائے کہ (1) قرآن مجید کے نسخوں پر جن شیطانوں نے معاذ اللہ پیشاب کیا، یا کوئی غلاظت پھینکی، ان کی سزا کیا ہے؟ (2) یہ غلاظت میں لت پت نسخے جن کی تحویل میں ہیں اور وہ انہیں نہ خود دھو کر صاف کر رہے ہیں اور نہ کسی کو اجازت دے رہے ہیں، ان اصحابِ اقتدار کا حکم کیا ہے؟ (3) کیا قرآن مجید کے اوراق کے ڈی این اے ٹیسٹ کی غرض سے اور مجرم پر کیس چلنے کی صورت میں توہینِ قرآن کا ثبوت باقی رکھنے کے لیے معاذ اللہ قرآن مجید کے نسخے یوں ہی غلاظت میں لت پت رکھے جا سکتے ہیں؟ (4) اگر اصحابِ اقتدار ایسے شیطان صفت مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتے تو ان اصحابِ اقتدار کا کیا حکم ہے؟ (5) جو وکلاء اور سول سوسائٹی کے لوگ چندٹکوں کے عوض ایسے مجرموں کو بچانا چاہتے ہیں، ان کا کیا حکم ہے؟ (6) اگر ان مجرموں میں سے کوئی اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے معافی کا طلبگار ہو تو کیا اس کی معافی کی گنجائش نکل سکتی ہے یا نہیں؟ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میاں جلیل احمد شرقپوری خادم آستانہ عالیہ شیر ربانی رحمۃ اللہ علیہ شرقپور شریف ضلع شیخوپورہ سابق ممبر قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی و سابق ناظم ضلع شیخوپورہ
الجواب بعون الملک الوہاب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سید المرسلین خاتم النبیین والمعصومین وعلیٰ آلہ و اصحابہ اجمعین
ابتدائیہ: قرآن مجید برھانِ رشید اللہ تعالیٰ کی آخری وحی ہے جو خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے قلبِ پُر نور پر اللہ تعالیٰ نے نازل کی۔ یہ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا سب سے بڑا معجزہ ہے۔ یہ کتاب ہدایت اور امت کے لیے نگہبان ہے۔ اس پر عمل کرنے، پڑھنے، لکھنے یہاں تک کہ اس کو دیکھنے میں بھی عبادت ہے۔ یہ دنیا، برزخ اور قیامت میں اور بعد از قیامت جنت میں کرم ہی کرم ہے۔ شریعتِ مطہرہ میں اس کے آداب پر بڑا زور دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ اس کو چھونے کے لحاظ سے قرآن مجید میں ہے:
لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔ (سورۃ الواقعہ: 79)
اسے نہ چھوئیں مگر باوضو۔
حدیث شریف میں ہے:
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللهِ ﷺ لِجَدِّي: أَنْ لَا يَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ۔
(مؤطا امام مالک، کتاب القرآن، باب الامر بالوضوء لمن مس القرآن، صفحہ: 185، میر محمد کتب خانہ کراچی)
حضرت عبد اللہ بن ابی بکر کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے میرے دادا جان کے لیے لکھا: کہ قرآن کو صرف طاہر (باوضو) بندہ ہی ہاتھ لگائے۔
امام عینی لکھتے ہیں: حضرت سالم حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَا يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ۔
(عمدۃ القاری شرح بخاری، جلد: 3، کتاب الحیض، صفحہ: 103، دارالفکر بیروت)
جوزقانی نے اس حدیث کو مشہور، حسن کہا ہے۔ ایسے ہی امام عینی نے دارقطنی سے متصل مرفوع سند سے روایت کیا ہے:
إِنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ كِتَابًا فِيهِ: لَا يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ۔
رسول اللہ ﷺ نے اہلِ یمن کی طرف ایک خط لکھا جس میں یہ لکھا: قرآن مجید کو صرف طاہر (باوضو) بندہ ہاتھ لگائے۔
(عمدۃ القاری شرح بخاری، جلد: 3، کتاب الحیض، صفحہ: 103، دارالفکر بیروت)
اس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ہمارے لیے قرآن مجید کے حوالے سے طہارت اور ادب کے معاملات کتنے حساس ہیں۔ جس کتاب کو بے وضو ہاتھ نہیں لگایا جا سکتا معاذ اللہ ثم معاذ اللہ اس کتاب پر کسی قسم کی پلیدی کو گرانا کتنا بڑا جرم ہوگا۔
ہمارے اسلاف نے تو قرآن مجید اور اسمائے مقدسہ کے آداب کے لحاظ سے ایسی ایسی مثالیں قائم کیں کہ آج بھی ان سے ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ حضرات القدس میں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں لکھا ہے:
مکاشفہ نمبر 35: ایک دن حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ قضائے حاجت کے لیے بیت الخلاء گئے وہاں دیکھا کہ مٹی کا ایک ٹوٹا ہوا پیالہ ہے جس سے بھنگی گندگی اٹھاتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ کا نام کندہ تھا لیکن وہ نجاستوں سے آلودہ تھا، آپ نے وہ ٹوٹا ہوا پیالہ اپنے ہاتھ سے اٹھایا اور باہر آئے اور خادم سے فرمایا: آفتابہ لاؤ۔ اور آپ نے اپنے ہاتھ سے اسے نجاستوں سے پاک کیا۔ خادموں نے ہر چند التماس کی کہ ہم اسے صاف کر دیں لیکن آپ نے قبول نہیں فرمایا۔ اس کو صاف کرنے کے بعد آپ نے سفید کپڑے میں لپیٹ کر پوری تعظیم کے ساتھ اونچے طاق میں رکھ دیا۔ اور جب کبھی آپ پانی پینا چاہتے تو اسی ٹوٹے ہوئے پیالے سے پیتے۔ اسی اثناء میں ربّ العزت کی بارگاہ سے آپ کو خطاب کیا گیا کہ جس طرح تم نے میرے نام کی تعظیم کی۔ میں بھی تمہارے نام کو دنیا اور آخرت میں اونچا کرتا ہوں۔ آپ فرماتے تھے کہ اگر میں سو سال بھی ریاضت اور مجاہدہ کرتا تو ان سے اتنے فیوضات و برکات حاصل نہ ہوتے جتنے کہ اس عمل سے مجھے حاصل ہوئے۔
(حضرات القدس، جلد: 2، صفحہ: 113، قادری رضوی کتب خانہ لاہور)
ایسے ہی روضۃ القیومیۃ میں ہے:
حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ ایک دن معارف لکھنے میں مصروف تھے۔ جلدی سے پیشاب کے لیے اٹھے اور بیت الخلاء میں داخل ہوئے مگر فوراً ہی باہر نکل آئے۔ لوگوں کو حیرت ہوئی کہ دوبارہ اتنی جلدی کیوں واپس آ گئے۔ نکلتے ہی آنجناب نے پانی منگوا کر انگوٹھے کو دھویا اور بیت الخلاء میں دوبارہ گئے۔ جب وہاں سے نکلے تو فرمایا کہ جب میں بیت الخلاء میں داخل ہوا تو دیکھا کہ میرے انگوٹھے پر سیاہی کا داغ ہے جو حرف قرآن کی کتابت کا سامان ہے۔ اس واسطے مناسب نہ سمجھا کہ سیاہی سمیت وہاں بیٹھوں گا۔ گو بول کی اشد ضرورت تھی لیکن ترکِ ادب کے مقابلہ میں آنجناب نے اسے روک رکھا۔
(روضۃ القیومیۃ، جلد: 1، صفحہ: 407-408)
جواب نمبر 1: اس سوال کا جواب باقی سوالات کے جوابات کے لیے بھی تمہید اور بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سلسلہ میں چند ائمہ کی فقہی تصریحات پیش کی جاتی ہیں۔
گستاخِ قرآن کا حکم
شرعی طور پر گستاخِ قرآن کا حکم یہ ہے کہ وہ کافر ہو جاتا ہے۔ سوال میں قرآن کی جن گستاخیوں کا تذکرہ ہے وہ تو بہت ہی بڑی گستاخیاں ہیں، جس بنیاد پر ایسا کرنے والا شخص بڑے ہی بھیانک درجے کا کافر ہے۔ اس کی تفصیل کے لیے ہم فقہاء کی چند نصوص پیش کرتے ہیں:
1: محقق علی الاطلاق امام کمال الدین ابن ھمام متوفیٰ 861ھ لکھتے ہیں:
وَبِالْجُمْلَةِ فَقَدْ ضُمَّ إِلَى التَّصْدِيقِ بِالْقَلْبِ، أَوْ بِالْقَلْبِ وَاللِّسَانِ فِي تَحْقِيقِ الْإِيمَانِ أُمُورٌ الْإِخْلَالُ بِهَا إِخْلَالٌ بِالْإِيمَانِ اتِّفَاقًا، كَتَرْكِ السُّجُودِ لِلصَّنَمِ، وَقَتْلِ نَبِيٍّ وَالِاسْتِخْفَافِ بِهِ، وَبِالْمُصْحَفِ وَالْكَعْبَةِ۔
(المسایرہ فی العقائد المنجیۃ فی الآخرۃ، الخاتمۃ: فی بحث الایمان، صفحہ: 280، مکتبہ نوریہ رضویہ پبلشنگ پکنی لاہور)
کسی کے ایمان کے ثبوت کے لیے تصدیقِ قلبی اور اقرار باللسان کے ساتھ دیگر کئی امور کو لازم کیا گیا ہے، اگر ان امور میں خلل آ جائے تو بالاتفاق ایمان ضائع ہو جاتا ہے۔ مثلاً مومن جو تصدیقِ قلبی اور اقرار باللسان پر قائم ہے اس کا ایمان تب باقی رہے گا جب وہ کسی بت کو سجدہ نہ کرے، اور کسی نبی کو قتل نہ کرے (یعنی جس زمانے میں انبیاء ہوا کرتے تھے اب تو نبوت کا دروازہ بند ہے)، یا کسی نبی کی توہین نہ کرے، یا قرآن مجید اور کعبہ کی توہین نہ کرے۔
مطلب یہ ہے کہ اگر اس نے ان میں سے کوئی کام کیا، مثلاً توہینِ رسالت ﷺ کی، یا توہینِ قرآن کی، تو اس کا اسلام ختم ہو جائے گا اور وہ کافر ہو جائے گا۔
2: امام تقی الدین سبکی متوفیٰ 756ھ لکھتے ہیں:
يُحْكَمُ عَلَى مَنْ سَجَدَ لِلصَّنَمِ أَوْ أَلْقَى الْمُصْحَفَ فِي الْقَاذُورَاتِ بِالْكُفْرِ، وَإِنْ لَمْ يَجْحَدْ بِقَلْبِهِ لِقِيَامِ الْإِجْمَاعِ عَلَى تَكْفِيرِ فَاعِلِ ذَلِكَ۔
(فتاویٰ سبکی، جلد: 2، فصل: من اذی لی ولیا، صفحہ: 572، دارالکتب العلمیہ بیروت)
جس نے بت کو سجدہ کیا یا قرآن مجید کو گندگیوں میں (معاذ اللہ) پھینکا، اس پر کفر کا حکم لگایا جائے گا۔ اگر چہ اس نے اپنے دل سے اسلام کا انکار نہ کیا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو بت کو سجدہ کرے یا قرآن مجید کو گندگیوں میں پھینکے اس کو کافر قرار دینے پر اجماع ہے۔
نوٹ: امام تقی الدین سبکی کے اس فتویٰ میں یہ واضح لکھا گیا ہے کہ قرآن مجید کو گندگی میں پھینکنے والا یا قرآن مجید پر گندگی پھینکنے والا اجماعی طور پر کافر ہے یعنی اس کے کفر میں کسی کا اختلاف نہیں۔
3: قاضی برھان الدین مالکی مدنی متوفیٰ 799ھ اپنی مشہورِ زمانہ کتاب تبصرۃ الحکام میں لکھتے ہیں:
وَمَنِ اسْتَخَفَّ بِالْقُرْآنِ أَوْ بِشَيْءٍ مِنْهُ أَوْ جَحَدَهُ أَوْ حَرْفًا مِنْهُ، أَوْ كَذَّبَ شَيْئًا مِنْهُ، أَوْ أَثْبَتَ مَا نَفَاهُ أَوْ نَفَى مَا أَثْبَتَهُ عَلَى عِلْمٍ مِنْهُ بِذَلِكَ، أَوْ شَكَّ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ فَهُوَ كَافِرٌ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِإِجْمَاعٍ۔
(تبصرۃ الحکام فی اصول الاقضیۃ، الجزء: 2، فصل: من سب اصحابہ وازواجہ ﷺ، صفحہ: 276، المکتبۃ الازہریہ للتراث)
جس بندے نے پورے قرآن مجید کی یا اس کے کچھ حصے کی معاذ اللہ توہین کی یا پورے قرآن مجید کا یا اس سے ایک حرف کا انکار کیا یا قرآن مجید کی کسی شئ کو جھٹلایا یا قرآن مجید نے جس شئ کی نفی کی ہے اس کو ثابت کیا، یا جس کو قرآن مجید نے ثابت کیا ہے اس کی نفی کی جبکہ اسے یہ پتا تھا کہ یہ قرآن میں سے ہے، یا اس نے قرآن مجید کی کسی شئ کے بارے میں شک کیا، ان تمام صورتوں میں اہلِ علم کے نزدیک وہ بالاجماع کافر ہے۔
4: مشہور فقیہ امام ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:
لَوْ سَجَدَ لِصَنَمٍ أَوْ وَضَعَ مُصْحَفًا فِي قَاذُورَةٍ فَإِنَّهُ يَكْفُرُ، وَإِنْ كَانَ مُصَدِّقًا لِأَنَّ ذَلِكَ فِي حُكْمِ التَّكْذِيبِ، كَمَا أَفَادَهُ فِي شَرْحِ الْعَقَائِدِ، وَأَشَارَ إِلَى ذَلِكَ بِقَوْلِهِ لِلِاسْتِخْفَافِ، فَإِنَّ فِعْلَ ذَلِكَ اسْتِخْفَافٌ وَاسْتِهَانَةٌ بِالدِّينِ فَهُوَ أَمَارَةُ عَدَمِ التَّصْدِيقِ۔
(حاشیہ ابن عابدین علی رد المحتار، جلد: 13، باب المرتد، صفحہ: 9، شرح قول: 20268، مکتبہ دار الثقافۃ والتراث بیروت)
اگر کسی نے (معاذ اللہ) بت کو سجدہ کیا یا اس نے (معاذ اللہ) قرآن مجید کو گندگی میں رکھا وہ کافر ہو جائے گا۔ اگر چہ وہ دل سے اسلام کی تصدیق کرتا ہو کیونکہ بت کو سجدہ کرنا اور قرآن مجید کو گندگی میں ڈالنا یہ (معاذ اللہ) اسلام کو جھٹلانے کے حکم میں ہے۔ جس طرح شرح عقائد نسفی میں مصنف نے واضح کیا ہے۔ اور اسی کی طرف امام حصکفی نے "للاستخفاف" کے لفظ سے اشارہ کیا ہے کیونکہ اس بندے کا بت کو سجدہ کرنے کا فعل اور قرآن کو گندگی میں ڈالنے کا فعل دینِ اسلام کی گستاخی اور توہین ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ دل سے بھی اسلام کی تصدیق نہیں کرتا۔
5: امام محی الدین ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی متوفیٰ 676ھ لکھتے ہیں:
وَأَجْمَعَتِ الْأُمَّةُ عَلَى وُجُوبِ تَعْظِيمِ الْقُرْآنِ عَلَى الْإِطْلَاقِ وَتَنْزِيهِهِ وَصِيَانَتِهِ: وَأَجْمَعُوا عَلَى أَنَّ مَنْ جَحَدَ مِنْهُ حَرْفًا مُجْمَعًا عَلَيْهِ أَوْ زَادَ حَرْفًا لَمْ يَقْرَأْ بِهِ أَحَدٌ وَهُوَ عَالِمٌ بِذَلِكَ فَهُوَ كَافِرٌ: وَأَجْمَعُوا عَلَى أَنَّ مَنِ اسْتَخَفَّ بِالْقُرْآنِ أَوْ بِشَيْءٍ مِنْهُ أَوْ بِالْمُصْحَفِ أَوْ أَلْقَاهُ فِي قَاذُورَةٍ أَوْ كَذَّبَ بِشَيْءٍ مِمَّا جَاءَ بِهِ مِنْ حُكْمٍ أَوْ خَبَرٍ أَوْ نَفَى مَا أَثْبَتَ أَوْ أَثْبَتَ مَا نَفَاهُ أَوْ شَكَّ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَهُوَ عَالِمٌ بِهِ كَفَرَ۔
(المجموع شرح المہذب، جلد: 3، کتاب الطہارۃ، باب ما یوجب الغسل، صفحہ: 113، دارالکتب العلمیہ بیروت)
امت نے قرآن مجید کی علی الاطلاق تعظیم اور قرآن مجید کے نسخے کی علی الاطلاق تعظیم اور اس کو ہر آلودگی سے منزہ رکھنے اور اسے ہر آلودگی سے محفوظ رکھنے پر اجماع کیا ہے۔ اور اس پر بھی امت نے اجماع کیا ہے کہ جس شخص نے ایسے ایک حرف کا بھی انکار کیا جس کے قرآنی حرف ہونے پر اجماع ہے۔ یا ایک حرف بھی زائد کیا جو کہ کسی قرات میں بھی نہیں ہے۔ اگر اس نے یہ سب کچھ جان بوجھ کے کیا تو وہ کافر ہے۔ اور امت نے اس بات پر اجماع کیا ہے کہ جس بندے نے پورے قرآن مجید کے نسخے کی یا اس میں سے کچھ حصے کی یا مصحف کی توہین کی، یا اسے گندگی میں پھینکا، یا قرآن مجید جو حکم یا خبر لے کے آیا، اس کو، یا جس نے جھٹلایا، یا قرآن مجید نے جس کو ثابت کیا اس کی اس نے نفی کی، یا قرآن مجید نے جس کی نفی کی اس نے اس کو ثابت کیا، یا اس میں سے کسی بھی چیز کے بارے میں اس نے شک کیا، حالانکہ وہ اس بارے میں جانتا تھا کہ یہ یقیناً قرآنی احکام ہیں، تو وہ کافر ہو جائے گا۔
نوٹ: امام نووی کے اس فتوے میں قرآن کو گندگی میں پھینکنے والے پر یا قرآن پر گندگی پھینکنے والے پر امت کے اجماع کے لحاظ سے کفر کا فتویٰ لگایا گیا ہے۔
5: التبیان فی آداب حملۃ القرآن میں بھی امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی متوفیٰ 676ھ لکھتے ہیں:
أَجْمَعَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى وُجُوبِ صِيَانَةِ الْمُصْحَفِ وَاحْتِرَامِهِ، قَالَ أَصْحَابُنَا وَغَيْرُهُمْ: وَلَوْ أَلْقَاهُ مُسْلِمٌ فِي الْقَاذُورَةِ ـ وَالْعِيَاذُ بِاللهِ تَعَالَى ـ صَارَ الْمُلْقِي كَافِرًا۔
(التبیان فی آداب حملۃ القرآن، باب فی کتابۃ القرآن واکرام المصحف، صفحہ: 212، مکتبہ ابن عباس)
مسلمانوں نے قرآن مجید کی حفاظت کے فرض ہونے پر اور قرآن مجید کے احترام پر اجماع کیا ہے۔ ہمارے علماء اور دیگر (فقہاء) نے کہا: اگر قرآن مجید کو کسی مسلمان نے معاذ اللہ گندگی میں پھینکا تو پھینکنے والا کافر ہو جائے گا۔
6: امام احمد بن محمد بن علی بن حجر ھیثمی متوفیٰ 974ھ نے ان افعال کی بحث کرتے ہوئے جو بندے کو کافر بنا دیتے ہیں، یہ لکھا ہے:
وَمِنْهَا: إِلْقَاءُ الْمُصْحَفِ فِي الْقَاذُورَاتِ۔
(الاعلام بقواطع الاسلام، جلد: 1، الالفاظ والافعال التی توقع فی الکفر، صفحہ: 77، دارالتقویٰ دمشق)
مسلمان کو جو الفاظ اور افعال کافر بنا دیتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے: قرآن مجید کو گندگی میں پھینک دینا۔
7: عبد الرحمٰن جزیری لکھتے ہیں:
أَنَّ كُلَّ قَوْلٍ، أَوْ فِعْلٍ، أَوِ اعْتِقَادٍ يُنَافِي مَا هُوَ مَعْلُومٌ مِنَ الدِّينِ بِالضَّرُورَةِ كَانَ خُرُوجًا عَنْ دِينِ الْإِسْلَامِ، وَذَلِكَ كَمَنْ أَنْكَرَ فَرْضِيَّةَ الصَّلَاةِ، أَوِ الصِّيَامِ، أَوِ الْحَجِّ، أَوْ قَالَ: إِنَّ الْمَسِيحَ صَلْبٌ، أَوْ هُوَ ابْنُ اللهِ أَوْ أَعْتَقَدَ أَنَّ اللهَ يُشْبِهُ الْحَوَادِثَ، أَوْ سَجَدَ لِصَنَمٍ، أَوْ أَهَانَ مُصْحَفًا بِإِلْقَائِهِ فِي قَاذُورَةٍ عَمْدًا، أَوْ سَبَّ دِينَ الْإِسْلَامِ ......... أَنَّ فَاعِلَهُ أَوْ قَائِلَهُ مُرْتَدٌّ۔
(کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعۃ، جلد: 4، کتاب النکاح، فصل: حکم نکاح المرتد، صفحہ: 198، دارالفکر بیروت)
ہر وہ قول یا فعل یا عقیدہ جو ضروریاتِ دین کے منافی ہو، اس کی وجہ سے بندہ دینِ اسلام سے نکل جاتا ہے۔ مثلاً جو بندہ نماز یا روزے یا حج کی فرضیت کا انکار کرے، یا یہ کہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پھانسی دی گئی، یا یہ کہے کہ معاذ اللہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں، یا یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ حوادث کے مشابہ ہے، یا بت کو سجدہ کرے، یا جان بوجھ کے قرآن کو گندگی میں پھینک کے توہین کرے، یا دینِ اسلام کو گالی دے، ......... تو ایسا فعل کرنے والا اور ایسا قول کرنے والا شخص مرتد ہو جاتا ہے۔
گستاخِ قرآن کی شرعی سزا
1: امام شرف الدین ابو الغنی موسیٰ بن احمد صالحی دمشقی لکھتے ہیں:
(وَقَالَ) ابْنُ عَقِيلٍ (فِي الْفُنُونِ): إِنْ قَصَدَ بِكَتْبِهِ بِنَجِسٍ إِهَانَتَهُ، فَالْوَاجِبُ قَتْلُهُ۔
(کشاف القناع عن الاقناع، جلد: 1، کتاب الطہارۃ: باب نواقض الوضوء، صفحہ: 319، دارالنوادر)
فنون میں ابن عقیل نے کہا ہے کہ اگر گندی چیز پر کسی نے قرآن (معاذ اللہ) اہانت کے ارادے سے لکھا تو اس کا قتل واجب ہے۔
تنبیہ: سوال میں موجود توہینِ قرآن کی جتنی بھی صورتیں لکھی گئی ہیں، یعنی قرآن مجید کے اوراق پر کوئی گندی چیز گرانا، یہ سب کچھ ہی معاذ اللہ توہین کرنے کے لیے کیا گیا۔ لہٰذا ایسے تمام مجرموں کی سزا شرعی طور پر یہ ہے کہ حکمرانوں پر لازم ہے کہ انہیں قتل کی سزائیں سنائیں۔
2: ابن تیمیہ متوفیٰ 728ھ نے اپنے فتاویٰ میں لکھا:
وَقَدِ اتَّفَقَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى أَنَّ مَنِ اسْتَخَفَّ بِالْمُصْحَفِ مِثْلَ أَنْ يُلْقِيَهُ فِي الْحَشِّ أَوَيَرُكَضَهُ بِرِجْلِهِ إِهَانَةً لَهُ إِنَّهُ كَافِرٌ مُبَاحُ الدَّمِ۔
(مجموع الفتاویٰ لابن تیمیہ، جلد: 4، کتاب القدر، فصل: فی ان الاستثناء فی الماضی المعلوم الخ، صفحہ: 666، مکتبۃ العبیکان ریاض)
یقیناً مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس بندے نے قرآن مجید کی (معاذ اللہ) توہین کی، مثلاً قرآن مجید کو پاخانے میں پھینکا یا اس کی اہانت کے لیے اپنے پاؤں تلے روندا تو ایسا شخص کافر ہے، مباح الدم ہے۔
مطلب یہ ہے کہ اس کی سزا قتل ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اس کا نفاذ حکمران کریں گے۔
3: امام خلیل بن اسحاق مالکی جندی اس بحث میں کن کاموں کی وجہ سے بندہ مرتد ہو جاتا ہے اور پھر اس کی سزا کیا ہے، لکھتے ہیں:
الرِّدَّةُ: كُفْرُ الْمُسْلِمِ بِصَرِيحٍ أَوْ لَفْظٍ يَقْتَضِيهِ أَوْ فِعْلٍ يَتَضَمَّنُهُ: كَإِلْقَاءِ مُصْحَفٍ بِقَذَرٍ۔
(مختصر خلیل، باب فی بیان حقیقۃ الردۃ، صفحہ: 238، دارالحدیث قاہرہ)
مرتد ہونا یہ ہے کہ مسلمان یا تو صریح کلمہ کفر بولے یا ایسا لفظ بولے جو یا تو کفر کا متقاضی ہو یا ایسا فعل کرے جو کفر کو متضمن ہو، مثال کے طور پر قرآن مجید کو گندگی میں پھینکنا۔
ان لفظوں سے ہی ایسے گستاخ کا شرعی حکم اور اس کی سزا واضح ہے کہ وہ کافر و مرتد ہو چکا ہے۔ اور مرتد کی سزا مشروط طریقے سے قتل ہے۔
جواب نمبر 2: جس کے سامنے سے غلاظت سے لت پت قرآن مجید کا نسخہ ہو، جو کہ تھانہ خانہ ہو، فعل کسی اور نے کیا ہے۔ لیکن یہ قدرت رکھتا ہے کہ اس گندگی کا قرآن مجید سے ازالہ کر سکے، تو اس پر فرض ہے کہ وہ قرآن مجید سے اس گندگی کا ازالہ کرے اور قرآن مجید کو دھوئے۔ امام شرف الدین ابو الغنی موسیٰ بن احمد صالحی دمشقی لکھتے ہیں:
(فَإِنْ كُتِبَا) أَيْ: الْقُرْآنُ، وَذِكْرُ اللهِ (بِهِ) أَيْ: بِالنَّجِسِ (أَوْ عَلَيْهِ، أَوْ فِيهِ، أَوْ تَنَجَّسَ، وَجَبَ غَسْلُهُ)۔
(کشاف القناع عن الاقناع، جلد: 1، کتاب الطہارۃ: باب نواقض الوضوء، صفحہ: 319، دارالنوادر)
اگر قرآن مجید اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کسی پلید چیز کے ساتھ لکھا گیا یا کسی پلید چیز کے اوپر لکھا گیا یا کسی پلید چیز میں لکھا گیا یا صحیح اوراق میں لکھے ہوئے قرآن مجید پر گندگی ڈال دی گئی تو ان ساری صورتوں میں قرآن مجید کو دھونا فرض ہے۔
ایسے ہی عبد الرحمٰن جزیری لکھتے ہیں:
يُرَاهُ مُلَطَّخًا بِالْأَقْذَارِ وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى إِزَالَتِهَا عَنْهُ فَلَمْ يَفْعَلْ وَتَرَكَهُ اسْتِخْفَافًا وَتَحْقِيرًا، فَمَدَارُ الْكُفْرِ عَلَى الِاسْتِخْفَافِ وَالتَّحْقِيرِ۔
(کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعۃ، جلد: 4، کتاب النکاح، فصل: حکم نکاح المرتد، صفحہ: 201، دارالفکر بیروت)
اگر کوئی بندہ قرآن مجید کو غلاظت سے آلودہ ہوا دیکھے اور وہ قادر بھی ہو کہ وہ قرآن مجید سے اس غلاظت کا ازالہ کرے لیکن وہ ایسا نہ کرے اور اس قرآن مجید کو توہین اور تحقیر کے لیے اسی طرح غلاظت میں رہنے دے تو وہ توہین اور تحقیر کی وجہ سے کافر ہو جائے گا۔ پس کافر ہونے کا دار و مدار توہین اور تحقیر کی وجہ سے قرآن کو اسی حالت میں رہنے دینے پر ہے۔
جواب نمبر 3: قرآن مجید کے اوراق کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے یا کیس کے لیے ثبوت کو برقرار رکھنے کے لیے کسی صورت بھی قرآن مجید کو نجاست میں لت پت رکھنا ہرگز جائز نہیں ہے۔ قرآن مجید کے نسخے کو فوری طور پر غسل دیا جائے اور غلاظت کا مکمل ازالہ کیا جائے۔ الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں لکھا گیا ہے:
وَيَجِبُ غَسْلُ الْمُصْحَفِ إِنْ تَنَجَّسَ وَلَوْ أَدَّى غَسْلُهُ إِلَى تَلَفِهِ۔
(الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ، صیانۃ المصحف عن الاتصال بالنجاسات، جلد: 10، صفحہ: 38)
اگر کسی وجہ سے قرآن مجید پر کوئی پلیدی پڑ گئی تو اسے دھونا فرض ہے اگر چہ اس دھونے کے نتیجے میں مصحف یعنی قرآن مجید کے اس نسخے کا تلف ہونا لازم آتا ہو۔
جدید ٹیکنالوجی میں اس کے کئی حل موجود ہیں مگر ان مقاصد کے لیے قرآن مجید کے نسخوں کو غلاظت میں برقرار رکھنا قطعی طور پر حرام ہے۔
جواب نمبر 4: اگر اصحابِ اقتدار قرآن مجید کی توہین کرنے والے شیطان صفت مجرموں کو سزا نہیں دیتے تو ان کا حشر بھی کل قیامت کے دن یقیناً انہیں کے ساتھ ہوگا۔
اس سلسلہ میں پنجاب کی دھرتی کے عظیم صوفی اور عظیم فقیہ حضرت شاہ عنایت قادری رحمۃ اللہ علیہ فتاویٰ حبِ المفتین میں مقدساتِ اسلامی کے بارے میں بالخصوص ناموسِ رسالت ﷺ کے بارے میں لکھتے ہیں اور اسی پر استفتاء میں پوچھے گئے مسئلہ کا جواب بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر حکمران ان مجرموں کو سزا نہیں دیتے تو شرعی طور پر ان کا حکم کیا ہوگا:
وِلَايَةُ أَهْلِ السُّلْطَانِ أَوْ نَائِبِهِ فِي حُكْمِ قَتْلِهِ وَإِنْ فَاتَ فِي قَتْلِهِ وَإِنْعَامُهُ الْمَصَالِحَ الدُّنْيَوِيَّةَ (وَفِي حَسْبِ الْمُفْتِينَ الدِّينِيَّةَ) وَإِنْ أَهْمَلُوا فَقَدْ رَضُوا بِمَا صَدَرَ عَنْهُ مِنَ الشَّتْمِ مَثَلًا وَهُوَ كُفْرٌ وَرَضُوا بِالْكُفْرِ وَالرَّاضِي بِالْكُفْرِ كَافِرٌ فَهُمْ كَافِرُونَ۔
(غایۃ الحواشی، صفحہ: 240، مخطوط)
اور بادشاہ یا اس کا نائب گستاخ کے قتل کے حکم کا خوشدامد اور سستی کا مرتکب نہ ہوا گر چہ گستاخ کو قتل کرنے اور اس کے ختم کرنے میں دنیاوی اور دینی مفادات بھی فوت ہوتے ہوں۔ اگر بادشاہ اور اس کے نائبین نے اس گستاخ کو کھلا چھوڑ دیا تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ اس سے جس گالی کا مثلاً صدور ہوا (سوال نمبر 4 کی صورت میں اس سے جو قرآن کی گستاخی کا صدور ہوا) تو وہ حکمران اس فعل سے اور اس کے کفر سے راضی ہو گئے اور توہینِ رسول ﷺ (اور توہینِ قرآن) سے راضی ہونا بھی کفر ہے۔ چنانچہ توہینِ رسالت ﷺ (اور توہینِ قرآن) کے مرتکبین کی سزا میں ٹال مٹول کرنے والوں پر بھی یہی (کفر کا) حکم لگے گا۔
چنانچہ اصحابِ اقتدار کو اپنی عارضی زندگی میں اپنے اقتدار کو آخرت کی بہتری کا باعث بنانا چاہیے نہ کہ آخرت کی بربادی کا۔
جواب نمبر 5: جو وکلاء، سول سوسائٹی کے لوگ یا بلاسفیمی پروٹیکشن گینگ کے افراد اتنے بڑے مجرموں کو بچانا چاہتے ہیں، ان کا ایمان بھی خطرے میں ہے اور وہ دونوں جہان کی بربادی کا مول لے رہے ہیں۔ اگر ان وکلاء وغیرہ کو معلوم ہے کہ وہ قرآن کے گستاخ اور مقدساتِ اسلام کے گستاخ واقعی گستاخ ہیں اور پھر بھی یہ ان کی حمایت پر تلے ہوئے ہیں تو ان کا شمار بھی انہیں کے ساتھ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
وَلَا تَرْكَنُوٓا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ۙ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُونِ اللهِ مِنْ أَوْلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ۔ (سورہ ہود: 113)
اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حمایتی نہیں پھر مدد نہ پاؤ گے۔
حدیث شریف میں ہے:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: مَنْ أَعَانَ ظَالِمًا لِيَدْحَضَ بِبَاطِلِهِ حَقًّا، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللهِ وَرَسُولِهِ۔
(جامع الصغیر للامام السیوطی، باب المیم، حدیث: 8474، صفحہ: 516، دارالکتب العلمیہ بیروت)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی ظالم کی حمایت کی تا کہ اس کے باطل کی وجہ سے حق کو نقصان پہنچائے۔ پس اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کا ذمہ بری ہو چکا ہے۔
جواب نمبر 6: ان گستاخ مجرموں کو ایسے تو معاف نہیں کیا جا سکتا۔ ان میں سے ہر ایک کی گستاخی کی نوعیت کو دیکھا جائے گا۔ بہرحال قرآن مجید، برھانِ رشید کی سخت توہین کرنے والے مجرم مذکورہ بالا تصریحات کی روشنی میں کافر و مرتد ہو چکے ہیں۔ اگر وہ توبہ بھی کر لیں تو پھر بھی چند سال انہیں قید میں ضرور رکھا جائے تا کہ پتا چلے کہ انہوں نے تقیہ کے طور پر توبہ کی ہے یا صدقِ دل سے تائب ہوئے ہیں تو توہینِ قرآن کا جرم تو پھر بڑا جرم ہے، امام تقی الدین سبکی نے توہینِ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے لحاظ سے بھی لکھا ہے کہ براہِ راست سلطان ان کو معاف نہیں کر سکتا۔ اس کے بھی کئی مراحل ہیں:
وَلَا يَجُوزُ لِلسُّلْطَانِ أَنْ يَعْفُوَ عَنْ أَحَدٍ وَقَعَ فِي أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ، بَلْ يُعَاقِبُهُ وَيَسْتَتِيبُهُ، فَإِنْ تَابَ قُبِلَ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَتُبْ أَعَادَ عَلَيْهِ الْعُقُوبَةَ وَخَلَّدَ عَلَيْهِ الْحَبْسَ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يَرْجِعَ۔
(السیف المسلول علیٰ من سبّ الرسول ﷺ، باب فی سبّ سائر الصحابہ رضی اللہ عنہم، صفحہ: 422، دار الفتح للنشر اردن)
بادشاہ کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی ایسے شخص کو معاف کرے جس نے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک کی بھی توہین کی ہو بلکہ وہ اسے سزا دے اور اسے سزا دے کے توبہ کروائے۔ اگر وہ گستاخ ان گستاخیوں سے توبہ کر لے تو اسے اس سے قبول کر لے۔ اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو بادشاہ اسے دوبارہ سزا دے اور اسے دائمی طور پر قید میں ڈالے یہاں تک کہ یا تو وہ مر جائے یا وہ رجوع کر لے۔
اس وقت تمام علماء و مشائخ، مقتیان کرام اور اسلامیانِ پاکستان کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ پاکستان کی فضاء کو گستاخیوں سے پاک کرنے کے لیے مجاہدانہ کردار ادا کیا جائے۔ موصول ہونے والے تفصیلی استفتاء کے اندر توہینِ رسالت ﷺ اور توہینِ قرآن کی کچھ ایسی سنگین واقعات کا تذکرہ ہے کہ شاید تاریخ میں پہلے کبھی بھی ایسے شیطانی گھناؤنے طریقے سے توہین نہ کی گئی ہو۔ حکام پر لازم ہے کہ جتنا جلد ہو، آئینی پر ایسی سے گزار کر ایسے شیطانوں سے زمین کو پاک کیا جائے اور فوری طور پر قرآنی نسخوں سے غلاظت کے ازالے کو یقینی بنایا جائے۔
ھذا ما عندی و اللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
والسلام مع الف اکرام
محمد اشرف آصف جلالی
بانی تحریک صراطِ مستقیم پاکستان
سربراہ تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ العالمی
07 ربیع الاول 1447ھ / 01 ستمبر 2025ء
دستخط: محمد اشرف آصف جلالی
مفتی ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی
پرنسپل مرکز صراطِ مستقیم تاج باغ فیر اا لاہور
عقائد
توہینِ قرآن مجید کے مجرموں، ذمہ دار اصحابِ اقتدار اور وکلاء کا شرعی حکم
September 1, 2025
