Tehreek Sirate Mustaqeem Pakistan

TSM (پاکستان)

فتاویٰ کی فہرست
عقائدنمایاں

ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی کا "منی خدا" کے شرکیہ الفاظ پر مرزا محمد علی جہلمی کے بارے میں تفصیلی فتویٰ

December 3, 2025
پی ڈی ایف پڑھیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ خاتم النبیین، سید الرسل و خاتم المعصومین و علیٰ آلہ و اصحابہ اجمعین وکلاء کی طرف سے اور دیگر کئی شخصیات کی طرف سے مرزا محمد علی جہلمی کی اس طرح کی عبارات جن میں وہ بندے پر منی خدا (Mini God) کے لفظ بولتا ہے، کا شرعی حکم پوچھا گیا۔ مثال کے طور پر کہتا ہے: اللہ تعالیٰ آپ کو ایک یہ آفر دیتا ہے کہ صرف یہ 60 سال کی زندگی مجھے دے دو، تمہیں بھی میں ایک منی خدا بنا دوں گا۔ اس حوالے سے وہ مخلوق ہی، لیکن جو کوالٹی گاڈ (God) کے پاس ہیں، گاڈ کی کوالٹی کیا ہیں؟ کن فیکون، جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو ہو جاتا ہے، تو جنت میں جنتی کیا ہو گا؟ جب وہ ارادہ کرے گا وہی چیز اس کے سامنے آ جائے گی۔ خدا کی کوالٹی ہے اسے موت بھی نہیں آنی، جنتی کو آئے گی؟ اجمالی جواب اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک کے سوا کسی کو ”منی خدا“ کہنا، یہ ہرگز جائز نہیں ہے۔ بلکہ یہ شرکیہ جملہ ہے۔ تاریخِ اسلام میں ائمہ دین کی طرف سے ایسے الفاظ کا کسی بندے پر کبھی اطلاق نہیں کیا گیا۔ کسی بندے کو ”منی خدا“ کہنے والا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مشرک ہو جاتا ہے۔ تفصیلی جواب لفظِ اللہ اور لفظِ خدا میں یہ فرق تو ہے کہ اسمِ جلالت ”اللہ“ عربی کا لفظ ہے اور ”خدا“ فارسی کا لفظ ہے، لیکن بیانِ توحید میں ان دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ جس طرح لفظِ اللہ کا کسی بندے پر شرعاً اطلاق جائز نہیں ہے۔ ایسے ہی لفظِ خدا کا (اضافت کے بغیر) کسی بندے پر اطلاق جائز نہیں ہے اور شرعی و فقہی طور پر جو احکام لفظِ ”اللہ“ کے ہیں، وہی لفظِ خدا کے ہیں۔ لفظ ”اللہ“ کی اولین ٹرانسلیشن کے طور پر تابعین کے زمانے سے لفظ خدا ہی معروف ہے۔ فقہی احکام میں بھی لفظِ ”خدا“ کو لفظِ ”اللہ“ کا متبادل مانا گیا ہے اور قرآن مجید کے فارسی میں اولین ترجمہ میں لفظِ ”اللہ“ کا ترجمہ لفظِ ”خدا“ سے ہی کیا گیا ہے۔ اس کے چند حوالہ جات ملاحظہ کیجیے: 1: امام فخر الدین ابو المحاسن حسن بن منصور اوز جندی المعروف قاضی خان متوفی 592ھ نماز میں داخل ہونے کے لیے تکبیرِ تحریمہ ”اللہ اکبر“ کی بحث میں لکھتے ہیں: ولو قال بالفارسیۃ: خدای بزرگ ست، أو قال: خدای بزرگ، أو قال: بنامِ خدای بزرگ، یصیر شارعا فی الصلوٰۃ فی قول أبی حنیفۃ. (فتاویٰ قاضی خان اولین، صفحہ: 42، بلوچستان بک ڈپو کوئٹہ) اگر کسی نے (اللہ اکبر کی جگہ) یہ کہا: 1۔ خدائے ما بزرگ است یعنی ہمارا خدا بڑا ہے۔ یا یہ کہا: 2۔ خدائے بزرگ یعنی اکبر خدا۔ یا یہ کہا: 3۔ اکبر خدا کے نام سے تو ان تینوں صورتوں میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مطابق وہ نماز کو شروع کرنے والا قرار پا جائے گا۔ یعنی امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک تکبیرِ تحریمہ کی جگہ خدائے ما بزرگ است کہنا جائز ہے تو یہ دلالت کرتا ہے کہ جو مطلب لفظِ ”اللہ“ کا ہے وہی لفظِ ”خدا“ کا ہے اور یہ بات آج سے نہیں زمانۂ تابعین سے آ رہی ہے۔ 2: علامہ علاء الدین ابو بکر بن مسعود کاسانی متوفی 587ھ بھی اسی تکبیرِ تحریمہ کی بحث میں لکھتے ہیں: ولو افتتح الصلاۃ بالفارسیۃ بأن قال: خدای بزرگ تر أو خدای بزرگ، یصیر شارعا عند أبی حنیفۃ وعندھما لا یصیر شارعا إلا إذا کان لا یحسن العربیۃ. ولو ذبح و سمی بالفارسیۃ یجوز بالإجماع. (بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع، جلد: 1، کتاب الصلاۃ، صفحہ: 196، دار الفکر بیروت) اگر کسی نے فارسی زبان میں نماز شروع کی بایں طور کہ اللہ اکبر کی جگہ خدائے بزرگ تر یا خدائے بزرگ کہا تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس کا نماز میں داخل ہونا صحیح قرار پائے گا۔ ہاں صاحبین کے نزدیک یہ ہے کہ وہ صرف اس صورت میں خدائے بزرگ تر کہنے سے نماز میں داخل ہو سکتا ہے جب اسے اللہ اکبر کہنا اچھے طریقے سے نہ آتا ہو۔ اگر کسی نے جانور کو ذبح کیا اور فارسی میں بسم اللہ پڑھی یعنی بنام خدا بزرگ تر کہا تو بالاجماع جائز ہے۔ علامہ عالم بن علاء انصاری متوفی 786ھ اسی مسئلہ کی تفصیل میں فرماتے ہیں: ولو کبر بالفارسیۃ بأن قال: خدا بزرگ است، أو قال: خدائے بزرگ، بنائے خدائے بزرگ، جاز عند أبی حنیفۃ رحمہ اللہ. (فتاویٰ تاتار خانیہ، جلد: 1، کتاب الصلاۃ، صفحہ: 440، ادارۃ القرآن کراچی) اگر کسی نے تکبیرِ تحریمہ فارسی میں کہی بایں طور کہ: خدا بزرگ است۔ یا کہا: خدائے بزرگ، یا کہا: بنام خدائے بزرگ، خواہ وہ عربی الفاظ اچھے طریقے سے بول سکتا ہو یا نہ بول سکتا ہو، امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس طرح تکبیرِ تحریمہ جائز ہے۔ جیسے کسی بندے کو ”اللہ“ نہیں کہہ سکتے ایسے ہی اسے ”خدا“ بھی نہیں کہہ سکتے 1: عام بندہ تو عام بندہ رہا، حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے سید المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ و بارک وسلم کے بارے میں بھی لفظِ خدا بولنے کو قطعی طور پر ناجائز قرار دیا۔ آپ فرماتے ہیں: بر وصفِ کمال کہ اثبات کنند و بہر کمالے کہ مدح گویند از رتبۂ او قاصر است الا اثباتِ صفتِ الوہیت کہ درست نیاید۔ بیت: مخوان او را خدا از بہرِ شرع و حفظِ دین وگر بر وصف کش میخواہی اندر مدح ش انشاء کن (اشعۃ اللمعات، جلد: 4، کتاب الآداب، باب المفاخرۃ والمصیبۃ، فصل الاول، حدیث، صفحہ: 93، کتب خانہ مجیدیہ ملتان) حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے لیے لوگ جس وصفِ کمال کو بھی ثابت کرتے ہیں اور ہر کمال جو آپ ﷺ کی مدح میں کہتے ہیں وہ آپ ﷺ کے رتبہ (کے بیان) سے قاصر ہے مگر رسولِ الہ ﷺ کے لیے الوہیت کی صفت کو ثابت کرنا، کیونکہ یہ درست نہیں ہے۔ شعر: رسول اللہ ﷺ کو شریعت کے حکم اور حفاظتِ دین کے پیشِ نظر ہرگز خدا نہ کہو۔ اس کے علاوہ جو وصف بھی ہے، اے مخاطب! اگر تو چاہتا ہے تو آپ ﷺ کی مدح میں اسے بول دے۔ 2: امام اہلِ سنت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز فتاویٰ رضویہ شریف میں اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: امام محمد بوصیری بردہ شریف میں فرماتے ہیں: دَعْ مَا ادَّعَتْهُ النَّصَارَى فِي نَبِيِّهِمْ وَاحْكُمْ بِمَا شِئْتَ مَدْحًا فِيهِ وَاحْتَكِمْ (جو کچھ نصاریٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کے بارے میں کہا تم وہ نہ کہو، اس کے علاوہ ہر مرتبہ و مقام آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لیے بیان کر سکتے ہو۔) شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: مخوان او را خدا از بہرِ حفظِ شرع و پاسِ دین دیگر بر وصف کش می خواہی اندر مدح ش املا کن۔ (شریعت و دین کا پاس کرتے ہوئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خدا نہ کہو، اس کے علاوہ ہر وصف کے ساتھ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مدح کر او اور لکھ سکتے ہو۔) (فتاویٰ رضویہ، جلد: 14، صفحہ: 687، رضا فاؤنڈیشن لاہور) 3: مفتی اعظم ہند حضرت شاہ حضرت مصطفیٰ رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: مسئلہ: اللہ تعالیٰ کو خدا کہنا درست ہے یا نہیں؟ الجواب: اللہ عز و جل پر ہی خدا کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ اور سلف سے لے کر خلف تک ہر قرن میں تمام مسلمانوں میں بلا نکیر اطلاق ہوتا رہا ہے۔ اور وہ اصل میں ”خود آ“ ہے جس کے معنی ہیں وہ جو خود موجود ہو کسی اور کے موجود کیے موجود نہ ہوا ہو۔ اور وہ نہیں مگر اللہ عز و جل، ہمارا سچا خدا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ (فتاویٰ مصطفویہ، کتاب الایمان، مسئلہ: 9، صفحہ: 31، شبیر برادرز اردو بازار لاہور) 4: امام اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں: سوال: جو شخص حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو خدا کہے اور تعزیہ داری کو جائز کرے اور سجدہ تعظیمی کرائے اور محدثین صحاحِ ستہ پر الزام نکال ڈالنے صیحہ کا لگائے اس شخص کی نسبت علماء کرام کیا فرماتے ہیں؟ جواب: کسی بات کی طرف نظر کرنے کی حاجت نہیں بعد اس کے کہ مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ کو خدا کہے یقیناً کافر مرتد ہے، مَنْ شَکَّ فِی عَذَابِہِ وَکُفْرِہِ فَقَدْ کَفَرَ۔ جس نے اس کے کفر و عذاب میں شک کیا وہ کافر ہو گیا۔ جو اس کے قول پر مطلع ہو کر اس کے کفر میں شک کرے خود کافر ہے، مسلمانوں کو اس کے پاس بیٹھنا، اس سے میل جول سلام کلام سب قطعاً حرام۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد: 14، صفحہ: 277، رضا فاؤنڈیشن لاہور) مرزا جہلمی کی تاویل مرزا جہلمی پر جب اعتراض کیا گیا کہ تم نے شرکیہ جملہ بولا ہے تو اس نے تاویل کرتے ہوئے کہا؛ ”تو اس پہ میں نے جملہ بولا تھا کہ گویا منی گاڈ انسان بن گیا اور میں نے ساتھ جملہ بولا تھا خالق اور مخلوق کا فرق رہے گا۔ جب میں یہ جملہ بولتا ہوں تو یہ فقہ حنفی کا بھی رول ہے کہ اگر کوئی شخص ایسا جملہ بولے جس میں 99 مطلب کفر کے نکلیں اور ایک اسلام کا تو مفتی پر واجب ہے کہ اسلام والا فتویٰ لگائے اور میرے اس میں 99 نہیں 100 مطلب یہی ایمان کا نکلتا ہے، کفر کا کوئی تعلق نہیں ہے۔“ لایعنی تاویل کا جواب: وہی فقہ حنفی جس کو مرزا جہلمی ہر وقت کو ستا رہتا تھا، اور امت کے محسنین، اکابر فقہاء کو بابے کہہ کر خود علمی کتابی ہونے کا دعویدار تھا، مشکل پڑی تو اسے انہی اکابرین کی چوکھٹ کا سہارا لینا پڑا۔ اور ان کی تعلیمات سے اپنے آپ کو شرک سے بچانے کی کوشش کرنے لگا مگر یہ فقہ حنفی کے اصولوں سے استدلال کے لیے پہلے ان اصولوں کو پڑھنا اور سمجھنا ضروری ہے۔ یہ ننانوے احتمالوں والا اصول وہاں لاگو ہوتا ہے جہاں لفظ صریح نہ ہو۔ اور اس میں متعدد احتمال ہوں، جہاں لفظ کا ایک معنی معین نہ ہو تو جو لفظ صراحتاً ایک معین معنی پر دلالت کر رہا ہو تو وہاں احتمالات والا قانون لاگو ہی نہیں ہوتا اور وہاں تاویل مردود ہوتی ہے۔ اس سلسلہ میں فقہ اسلامی سے چند حوالہ جات ملاحظہ ہوں: 1: علامہ عالم بن علاء انصاری متوفی 786ھ فرماتے ہیں: ولو قال: مِن خدایم! علی وجہ المزاح یعنی ”خودآیم“ فقد کفر. (فتاویٰ تاتار خانیہ، جلد: 5، کتاب احکام المرتدین، صفحہ: 471، ادارۃ القرآن کراچی) اور اگر کسی نے مزاح کے طور پر کہا: من خدایم (میں خدا ہوں)، پھر اس نے تاویل کی کہ خدایم کا معنی ہے کہ میں خود آیا ہوں تو اسے کافر قرار دیا جائے گا۔ (اور اس کی یہ تاویل نہیں مانی جائے گی) 2: فتاویٰ بزازیہ میں علامہ محمد بن محمد بن شہاب بن یوسف الکردی البزازی متوفی 827ھ لکھتے ہیں: ولو قال: من خدائم بلا ھمزۃ یرید مَن خودیم یکفر. (فتاویٰ بزازیہ، جلد: 2، کتاب الفاظ تکون اسلاماً او کفراً او خطأً، صفحہ: 443، قدیمی کتب خانہ کراچی) اگر کسی نے کہا: ہمزہ کے بغیر کہا مِن خدایم پھر اس نے اس کی مَن خودیم کے ساتھ تاویل کی تو یہ تاویل کی نہیں مانی جائے گی بلکہ اسے کافر قرار دیا جائے گا۔ 3: علامہ قاضی عیاض مالکی شافعی متوفی 544ھ کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ میں فرماتے ہیں: قال أحمد بن أبي سلیمان صاحب سحنون: من قال إن النبي صلی اللہ علیہ وسلم كان أسود، یقتل، وقال فی رجل قیل لہ: لا و حق رسول اللہ، فقال: فعل اللہ برسول اللہ کذا۔ وذکر کلاما قبیحا۔ فقیل لہ: ما تقول یا عدو اللہ؟ فقال أشد من کلامہ الأول ثم قال: إنما أردت برسول اللہ العقرب، فقال ابن أبي سلیمان للذي سألہ اشھَدُ علیہ وأنا شریکُك، یرید فی قتلہ و ثواب ذلك. قال حبیب بن أبي الربیع لأن ادعاء التأویل فی لفظ صراح لا یقبل لأنہ امتھان وھو غیر معزر لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولا موقر لہ فوجب لہ إباحۃ دمہ. (کتاب الشفاء، جلد: 2، القسم الرابع، الباب الاول، فی بیان ما ھو حقہ ﷺ، فصل اول: الحکم الشرعی فیمن سب النبی ﷺ، صفحہ: 543، دار الفکر بیروت) سحنون مالکی کے مصاحب احمد بن ابی سلیمان مالکی نے کہا: جس شخص نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ (معاذ اللہ) اسود (سیاہ) تھے، اسے قتل کیا جائے گا۔ اور ایسے ہی احمد بن ابی سلیمان نے ایسے شخص کے بارے میں فتویٰ دیا جس کے سامنے کہا گیا: لا و حق رسول اللہ ﷺ، تو اس نے کہا: اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ سے ایسا کرے اور اس نے قبیح کلام کاذ کر کیا تو اسے کہا گیا کہ اے اللہ کے دشمن تو کیا کہہ رہا ہے تو اس نے (معاذ اللہ) رسول اللہ ﷺ کے بارے میں پہلے سے بھی سخت لفظ بولے۔ پھر اس نے کہا کہ میں نے رسول اللہ سے بچھو مراد لیا ہے تو احمد بن ابی سلیمان نے سائل کو کہا کہ میں اس بات پر گواہی دیتا ہوں اور میں تیرے ساتھ اس بات میں شریک ہوں یعنی اس قائل گستاخ کے قتل کے بارے میں اور اس پر ثواب ملنے کے بارے میں (میں تیرے ساتھ ہوں) حبیب بن ربیع نے کہا: لفظ صریح کے اندر تاویل کا دعویٰ قبول نہیں کیا جاتا۔ کیونکہ قائل نے جو کلام کیا تھا، وہ توہین پر مشتمل ہے اور حال یہ ہے کہ قائل نہ تو رسولِ پاک ﷺ کی تعظیم کرنے والا ہے اور نہ ہی توقیر کرنے والا ہے تو وہ جوبی طور پر مباح الدم ہے۔ 4: علامہ شہاب الدین احمد بن محمد خفاجی متوفی 1069ھ فرماتے ہیں: (ثم قال) یوجہ کلامہ القبیح ویؤولہ (إنما أردت) بقولی (برسول اللہ) الذی وصفتہ بصفات أنکرتموھا (الصعق) لأن اللہ ھو الذی أرسلھا وساقھا کما فی قولہ تعالیٰ: وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ [الرعد: 13]، وھذا حقیقۃ معنی الإرسال، وھذا مما لا شک فی معناہ، وإنکارہ مکابرۃ، لکنہ لا یقبل من قائلہ، وادعاؤہ أنہ مراد أنہ رسول اللہ صار فی کلامھم لا یراد بہ إلا الأنبیاء علیھم الصلاۃ والسلام، ولا یخطر غیرہ ببال أحد، فلذَلِك لم یقبل تأویلہ. (نسیم الریاض، جلد: 6، القسم الرابع، الباب الاول، فی بیان ما ھو حقہ ﷺ، فصل اول: الحکم الشرعی فیمن سب النبی ﷺ، صفحہ: 157، دار الکتب العلمیہ بیروت) جس شخص نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں توہین آمیز الفاظ بولے پھر اس نے اپنے قبیح کلام کی تاویل کرتے ہوئے کہا کہ میں نے رسول اللہ کے بارے میں جو الفاظ بولے ہیں جن الفاظ کو تم نے ناپسند کیا تو یہاں میری مراد رسول اللہ کے الفاظ سے صعق (آسمانی بجلی) تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ جس نے آسمانی بجلی کو بھیجا اور چلایا۔ جس طرح کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان میں ہے: وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ [الرعد: 13] اور اور کڑک بھیجتا ہے۔ اس آیت میں صواعق کا بھیجی گئی کے معنی میں ہونا یہ ارسال کا حقیقی معنی ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بجلیوں کے بھیجے ہوئے ہونے کا انکار مکابرہ ہے۔ لیکن مذکورہ قائل جس نے رسول اللہ کے الفاظ سے اپنے گستاخانہ کلام میں رسول کا لغوی معنی مراد لیتے ہوئے بجلی مراد لی، اس کی یہ تاویل قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ لوگوں کے کلام میں رسول اللہ ﷺ کے الفاظ زمانہ ماضی سے ایسے استعمال ہوتے آئے ہیں کہ لوگوں کے کلام میں رسول اللہ ﷺ کے الفاظ سے صرف انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ہی مراد لیے جاتے ہیں اور اس کے علاوہ بجھو، یا بجلی، یا کوئی اور چیز جسے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے، اس کا خیال بھی کسی کے دل میں نہیں آتا ہے، اس بنیاد پر یہ تاویل قبول نہیں ہو گی۔ 5: ملا علی قاری حنفی متوفی 1014ھ فرماتے ہیں: (ثم قال إنما أردت برسول اللہ العقرب) فإنہ أرسل من عند الحق وسلط علی الخلق تأویلا للرسالۃ العرفیۃ بالإرادۃ اللغویۃ وھو مردود عند القواعد الشرعیۃ. (شرح الشفاء لملا علی قاری، جلد: 2، القسم الرابع، الباب الاول، فی بیان ما ھو حقہ ﷺ، فصل اول: الحکم الشرعی فیمن سب النبی ﷺ، صفحہ: 396، دار الکتب العلمیہ بیروت) جس شخص نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں توہین آمیز الفاظ بولے اور پھر اس نے تاویل کرتے ہوئے کہا کہ میری مراد رسول اللہ سے بچھو ہے۔ کیونکہ بچھو کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہے اور مخلوق پر مسلط کر دیا گیا ہے، یعنی اس نے عرفی رسالت سے مراد لغوی رسالت (یعنی بھیجنا) لیا تو شرعی قواعد کے مطابق یہ تاویل مردود ہے۔ 6: علامہ ابو العباس احمد بن محمد بن علی بن حجر ہیتمی متوفی 974ھ اپنی کتاب ”الاعلام بقواطع الاسلام“ میں فرماتے ہیں: عن صاحب سحنون فی رجل قیل لہ: لا وحق رسول اللہ، فقال: فعل اللہ برسول اللہ کذا و کذا، وذکر کلاما قبیحا، ثم قال: أردت برسول اللہ العقرب أنہ لا یقبل دعواہ التأویل. (الاعلام بقواطع الاسلام، الفاظ والافعال التی توقع فی الکفر، تعلیق المولف علی احد کتب الاحناف، صفحہ: 182، دار التقویٰ سریہ دمشق) سحنون مالکی کے مصاحب سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک شخص کے بارے میں فتویٰ دیا تھا جس سے کہا گیا تھا: لا وحق رسول اللہ ﷺ تو اس نے آگے سے کہا: اللہ تعالیٰ رسول اللہ سے ایسے ایسے کرے۔ یعنی قبیح (رسول اللہ کے بارے میں) قبیح لفظ بولے۔ پھر اس نے اس میں تاویل کی کہ رسول اللہ سے میری مراد بچھو ہے۔ (یعنی رسول اللہ کا مطلب ہے اللہ کا بھیجا ہوا) اور بچھو بھی اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہے، تو اس کا دعویٰ قابلِ تاویل نہیں ہو گا۔ خلاصہ مرزا جہلمی نے جو ننانوے احتمالات والی بات کی ہے، فقہی اصولوں کے مطابق منی خدا کے جواز کے بارے میں مذکورہ حوالہ جات کی روشنی میں تاویل نہیں کی جا سکتی۔ کیونکہ یہاں پر لفظِ خدا میں جبکہ وہ مضاف نہ ہو، کوئی دوسرا احتمال ہے ہی نہیں اور زمانہ قدیم سے خدا کا لفظ بولتے ہی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف خیال نہیں جاتا۔ منی خدا کے مسئلہ پر مرزا جہلمی کی غلط دلیل کا جواب مرزا جہلمی نیک بندے کو بقول اس کے اللہ تعالیٰ اپنی خدائی میں اس لحاظ سے شریک کر لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی ہمیشہ کے لیے زندہ ہے اور جنت میں اس نیک بندے کو بھی ہمیشہ کی زندگی مل جائے گی۔ چنانچہ مرزا جہلمی کے بقول یہ بندہ منی خدا بن جائے گا۔ معاذ اللہ۔ مرزا جہلمی کی یہ دلیل بھی بالکل بے سر و پا اور باطل ہے کیونکہ یہاں نیک بندے کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ (معاذ اللہ) شریک کرنے کے لیے جنت میں جانے کے بعد دونوں کا ہمیشہ زندہ رہنا ہے۔ جبکہ ہمیشہ کی زندگی کو اگر دلیل بنایا جائے تو قیامت کے بعد یہ صرف اللہ تعالیٰ کو ساٹھ سال دینے والے کی اور مومن و پرہیزگار کی ہی نہیں ہو گی بلکہ جہنمی بھی ہمیشہ زندہ رہے گا تو پھر مرزا جہلمی کے قانون کے مطابق جہنمی کو بھی معاذ اللہ منی خدا کہنا پڑے گا کیونکہ ہمیشہ زندہ رہنے کی جہت میں قیامت کے بعد میں وہ بھی برابر کا شریک ہو جائے گا۔ معاذ اللہ۔ اس سلسلہ میں بخاری شریف میں حدیث کی ملاحظہ ہو: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: یُؤْتَى بِالْمَوْتِ كَهَيْئَةِ كَبْشٍ أَمْلَحَ فَيُنَادِي مُنَادٍ: یَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ، فَيَقُولُ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ، وَكُلُّهُمْ قَدْ رَآهُ، ثُمَّ یُنَادِي: یَا أَهْلَ النَّارِ! فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ، فَيَقُولُ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ، وَكُلُّهُمْ قَدْ رَآهُ، فَيُذْبَحُ ثُمَّ يَقُولُ: یَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ، ثُمَّ قَرَأَ [وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ] وَهَؤُلَاءِ فِي غَفْلَةٍ أَهْلُ الدُّنْيَا [وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ]. (صحیح بخاری، جلد: 3، کتاب تفسیر القرآن، باب قولہ: وانذرھم یوم الحسرۃ، حدیث: 4730، صفحہ: 1181، دار الفکر بیروت) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن موت کو چت کبرے (وہ جانور جس میں سفیدی سیاہی سے زیادہ ہو، بعض نے کہا جو خالص سفید ہو) مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا تو اعلان کرنے والا اعلان کرے گا۔ اے اہلِ جنت! تو وہ سر اٹھائیں گے اور دیکھیں گے۔ تو وہ منادی کہے گا کیا تم اس (مینڈھے) کو پہچانتے ہو؟ تو سب کہیں گے: ہاں! یہ موت ہے۔ اور سارے اہلِ جنت ہی اس کو دیکھ چکے ہوں گے۔ پھر وہ منادی ندا کرے گا کہ اے اہلِ جہنم! کیا تم اس (مینڈھے) کو پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں یہ موت ہے۔ اور سارے جہنمی ہی پہلے اسے دیکھ چکے ہوں گے تو اس مینڈھے (موت) کو ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر منادی کہے گا۔ اے اہلِ جنت! اب تم نے ہمیشہ زندہ رہنا ہے پس کوئی موت نہیں۔ اور اے اہلِ جہنم! اب تم نے ہمیشہ زندہ رہنا ہے، پس کوئی موت نہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔ (اور انہیں ڈر سناؤ پچھتاوے کے دن کا جب کام ہو چکے گا اور وہ غفلت میں ہیں) اور یہ غفلت میں ہیں اہلِ دنیا (اور وہ نہیں مانتے)۔ اس حدیث شریف سے یہ ثابت ہوا کہ ہمیشہ کی زندگی کا ملنا یہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کی سالہا سال کی جزا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو بھی ہمیشہ کی زندگی ملے گی۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ جہنم میں ملے گی۔ مرزا جہلمی کا خالق اور مخلوق کا فرق کرنا جب علماءِ حق نے مرزا جہلمی کی بندے کو منی خدا کہنے کے شرکیہ جملہ پر گرفت کی تو مرزا جہلمی نے اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا: ”تو اس پہ میں نے جملہ بولا تھا کہ گویا منی گاڈ انسان بن گیا اور میں نے ساتھ جملہ بولا تھا خالق اور مخلوق کا فرق رہے گا۔“ اس کی دلیل کا خلاصہ یہ بنتا ہے کہ کوئی کسی کو اللہ تعالیٰ کے سوا خدا کہے لیکن اسے مخلوق مانے تو شرک نہیں ہو گا۔ معاذ اللہ۔ جبکہ یہ بات شرعی طور پر بالکل غلط ہے۔ مشرکینِ مکہ جن معبودانِ باطلہ کو ماننے کی وجہ سے مشرک تھے، وہ بھی انہیں مخلوق ہی سمجھتے تھے اس کے باوجود قرآن مجید نے ان کو مشرک قرار دیا۔ یہ بات تو قرآن مجید میں بالکل واضح ہے کہ مشرکینِ مکہ اپنا اور زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے۔ جیسا کہ ان آیات میں ذکر ہے: وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللهُ. (سورۃ الزمر: 38) اور اگر تم ان سے پوچھو آسمان اور زمین کس نے بنائے؟ تو ضرور کہیں گے اللہ نے۔ وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ اللهُ فَأَنّٰى يُؤْفَكُونَ. (سورۃ الزخرف: 87) اور اگر تم ان سے پوچھو کہ انہیں کس نے پیدا کیا تو ضرور کہیں گے اللہ نے تو کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ جہاں تک ان کے بتوں کا ذکر ہے تو بتوں کے بارے میں بھی ان کا یہ نظریہ نہیں تھا کہ وہ بت ازلی ابدی اور دائمی ہیں بلکہ وہ انہیں اپنے ہاتھوں سے گھڑ گھڑ کے بناتے تھے اور جن کے سامنے بت بنانے والی دکانیں چلتی تھیں، جن کے سامنے نئے نئے بت متعارف ہوتے تھے، بت بنتے، ٹوٹتے، چھوٹتے تھے، یہ ساری چیزیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ بتوں کو خالق نہیں بلکہ مخلوق ہی سمجھتے تھے۔ اور جن پتھروں، پہاڑوں کے بارے میں ان کا نظریہ تھا کہ زمین کی طرح ان پہاڑوں اور پتھروں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے، اپنی مردہ عقل کی بنیاد پر انہیں بعض پتھروں کو اپنا معبود بنا لیتے تھے اور پھر پہلے پتھر سے خوبصورت پتھر ملنے پر اسے گندی نالی میں پھینک دیتے تھے۔ اس صورتحال کو بخاری شریف سے ملاحظہ کریں۔ حضرت ابو رجاء عطاردی جو تابعین کے کبار علماء میں سے ہیں، اگر چہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا مگر شرفِ زیارت سے محروم رہے، وہ اپنے دورِ بت پرستی کے بارے میں کہتے ہیں: كُنَّا نَعْبُدُ الْحَجَرَ فَإِذَا وَجَدْنَا حَجَرًا هُوَ أَخْيَرُ مِنْهُ أَلْقَيْنَاهُ وَأَخَذْنَا الْآخَرَ فَإِذَا لَمْ نَجِدْ حَجَرًا جَمَعْنَا جُثْوَةً مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ جِئْنَا بِالشَّاةِ فَحَلَبْنَاهُ عَلَيْهِ ثُمَّ طُفْنَا بِهِ. (صحیح بخاری، جلد: 3، کتاب المغازی، باب وفد بنی حنیفہ وحدیث ثمامہ بن اثال، حدیث: 4376، صفحہ: 105، دار الفکر بیروت) ہم ایک پتھر کی عبادت کرتے تھے، جب ہم اس پتھر سے اچھا کوئی پتھر پا لیتے تو پہلے پتھر (یعنی پہلے معبود) کو پھینک دیتے اور دوسرے کو معبود بنا لیتے تھے۔ اور جب ہمیں کوئی پتھر نہ ملتا ہم مٹی کی ایک ڈھیری بناتے، پھر ہم بکری لاتے اور اس ڈھیری کے اوپر اس بکری کو دوہتے تو پھر مٹی کی اس چھوٹی سی ڈھیری کے گرد طواف کرنا شروع کر دیتے تھے۔ نتیجہ مشرکینِ مکہ بھی معاذ اللہ جنہیں اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے ہوئے تھے وہ بھی بیچ میں خالق اور مخلوق کا فرق مانتے تھے، جس فرق کی بنیاد پر مرزا جہلمی بندے کو منی خدا کہہ کے شرک سے بچنا چاہتا ہے۔ جب مشرکینِ مکہ اللہ تعالیٰ کو خالق اور بتوں کو مخلوق مان کے بھی مشرک قرار پائے تو مرزا جہلمی اس تاویل کی بنیاد پر شرک سے نہیں بچ سکتا۔ شرعی طور پر انعامِ بندگی عبادت، ریاضت اور تزکیۂ نفس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ بہت ہی نوازتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ہرگز ہرگز کسی کو خدا نہیں بناتا، خواہ وہ منی خدا ہی کیوں نہ ہو۔ اس پر قرآن و سنت اور گزشتہ صدیوں میں صحابہ کرام علیہم الرضوان سے لے کر آج تک اجماع ہے۔ ہاں عبادت اور ریاضت کے نتیجے میں وہ کچھ اللہ تعالیٰ دیتا ہے وہ حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ نے خود بیان کر دیا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللهَ قَالَ: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ. (صحیح بخاری، جلد: 4، کتاب الرقاق، باب التواضع، حدیث: 6502، صفحہ: 199، دار الفکر بیروت) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی، یقیناً میں نے اس سے اعلانِ جنگ کیا۔ میرے بندے کو کسی عبادت سے بھی جو بھی میرا قرب اتنا نہیں ملتا، جتنا اس عبادت سے ملتا ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے۔ اور میرا بندہ (فرض ادا کرنے کے بعد) ہمیشہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ پھر جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، (میری قدرت کی طاقت) اس کے پاؤں میں آ جاتی ہے جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے ضرور بالضرور عطا کرتا ہوں۔ اور اگر وہ (کسی دشمن یا شیطان) کے مقابلے میں میری پناہ مانگتا ہے تو میں اسے اپنی پناہ دے دیتا ہوں۔ قارئین کرام! آپ نے حدیثِ قدسی سے قانونِ خداوندی پڑھ لیا کہ اللہ تعالیٰ کسی مسلمان کو عبادت کے نتیجے میں بہت ہی نوازتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ ازلی قانون ہے کہ وہ کسی کو بھی اللہ تعالیٰ یا خدا نہیں بناتا، اگر چہ وہ منی خدا ہی کیوں نہ ہو۔ ہاں! وہ اپنے بندوں کو بندہ ہی رکھ کے، اپنی مدد کا، اپنے کرم کا اور اپنی قدرت کا مظہر بنا دیتا ہے جس کے مظاہر قرآن و سنت اور تاریخِ اسلام میں اولیائے کرام سے صادر ہونے والی صفات میں پائے گئے ہیں۔ مرزا جہلمی بھی عجیب مخلوق ہے اس نے تو یہ نہیں مانا تو شریعت کی روشنی میں اولیائے کرام کے ثابت شدہ کمالات کو بھی نہیں مانا، حالانکہ یہ تو توحید کا ہی حقیقت میں کمال تھا۔ اور مقدس ہستیوں کے خلاف ہرزہ سرائی میں بدنامی کا بہت بڑا مقام حاصل کیا۔ اور ماننے پہ آیا تو ایک عام بندے کو منی خدا مان بیٹھا جو کہ واضح شرک ہے۔ مرزا جہلمی کی بندے کو منی خدا قرار دینے کی شرکیہ سوچ کا ممکنہ ماخذ اسلام میں تو کہیں دور دور تک ایسی سوچ کا نام و نشان نہیں ملتا۔ منی خدا کے تصور کی اگر جڑیں برآمد ہوئی ہیں تو وہ اسلام سے قبل یہود و نصاریٰ میں ہوئی ہیں پھر اس پر بالکل وہ کفر مرتب ہوا کہ جن جن لوگوں نے یہ بھی معاذ اللہ، اللہ تعالیٰ کی اولاد ہونے کا کفریہ قول کیا، وہ اسی بنیاد پر تھا۔ خواہ وہ یہود ہوں جنہوں نے حضرت عزیر علیہ السلام کو معاذ اللہ ابن اللہ کہا تھا، خواہ نصاریٰ ہوں جنہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو معاذ اللہ ابن اللہ کہا تھا، خواہ وہ مشرکینِ عرب ہوں جنہوں نے فرشتوں کو معاذ اللہ، اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہا تھا۔ یہ ایک تفصیلی بحث ہے کہ مرزا جہلمی کی طرح خدا کی دو قسمیں یعنی رب اصغر (Mini God) اور رب اکبر (Super Good) بنانے والے کیسے ہلاکتوں کی وادیوں میں جا پھنسے۔ عظیم مفسر، امام قاضی ناصر الدین بیضاوی متوفی 791ھ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: كَانُوا يُطْلِقُونَ الْأَبَ عَلَى اللهِ تَعَالَى بِاعْتِبَارِ أَنَّهُ السَّبَبُ الْأَوَّلُ، حَتَّى قَالُوا: إِنَّ الْأَبَ هُوَ الرَّبُّ الْأَصْغَرُ، وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى هُوَ الرَّبُّ الْأَكْبَرُ. (تفسیر بیضاوی المسمی انوار التنزیل واسرار التاویل، جلد: 1، تفسیر سورۃ البقرہ: 117، صفحہ: 390، دار الفکر بیروت) یہود و نصاریٰ اللہ تعالیٰ پر معاذ اللہ اب کا اطلاق اس بنیاد پر کرنے لگے کہ کسی بچے کی پیدائش کا سبب اول ہے۔ یہ کہتے ہوئے وہ یہاں تک پہنچے کہ انہوں نے کہا کہ باپ وہ رب اصغر (منی خدا) ہے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ رب اکبر (سپر خدا) ہے۔ نجانے مرزا جہلمی کو یہود و نصاریٰ کا کیسے قرب حاصل ہوا کہ وہ یہود و نصاریٰ والی رگ اس میں بھی بیدار ہو گئی اور اس نے معاذ اللہ منی خدا کا قول کر دیا۔ توحید کے بارے میں چند حقائق 1: اسلامی قطعی تعلیمات میں یہ بات ابتدائی معلومات رکھنے والے کو بھی معلوم ہوتی ہے کہ نبوت وہبی ہے، کسبی نہیں ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ بندہ عبادت کر کے مقامِ نبوت نہیں پا سکتا بلکہ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور یہ اس کی عطا ہے کہ اس نے جس کو بھی نبی بنانا تھا، اپنے فضل سے نبی بنا دیا۔ اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ آخری نبی ہیں۔ تمام انبیاء کرام علیہم السلام اپنے کسب سے نہیں اللہ تعالیٰ کی عطا سے نبی بنے تھے اور نبی ہیں۔ یہ بات بھی قطعی طور پر طے شدہ ہے کہ مقامِ الوہیت اور مقامِ خداوندیت، مقامِ نبوت و رسالت سے کہیں بلند و بالا ہے تو جب عبادت و ریاضت کے نتیجے میں کوئی نبی نہیں بن سکتا (یعنی اس وقت جب نبوت کا دروازہ کھلا تھا) تو کوئی خدا کیسے بن سکتا ہے اگر چہ منی خدا ہی کیوں نہ ہو۔ 2: منی (Mini) کا لفظ سپر (Super) کے مقابلے میں ہے۔ منی (Mini) کے مقابلے میں جو سپر (Super) ہے یقیناً اس کی حدود و قیود ہیں۔ مثلاً ایک ہے منی مارکیٹ اور اس کے مقابلے میں ہے سپر مارکیٹ۔ یا ایک ہے منی سٹور، تو اس کے مقابلے میں ہے سپر سٹور۔ پتا یہ چلا کہ منی کے مقابلے میں جو ہوتا ہے وہ اگر چہ منی سے تو بڑا ہوتا ہے مگر اس کی حدود و قیود ہوتی ہیں، اس کے لیے جہت اور مکان ہوتا ہے، اس میں ترکیب اور اجزاء ہوتے ہیں جبکہ اللہ جل جلالہ اور خدا تعالیٰ ان ساری قیود اور حدود سے پاک ہے۔ تو پتا چلا کہ خدا تعالیٰ کے علاوہ اگر فرض کیا جائے کہ کوئی منی خدا ہے تو پھر منی کے لفظ ہے کہ یہ تقاضا کا یہ تقاضا ہو گا کہ معاذ اللہ، خدا تعالیٰ معبودِ برحق کے لیے ایسی حدود و قیود بھی مانی جائیں جو دیگر مقامات پر منی کے مقابلے میں سپر کے لیے مانی جاتی ہیں لہٰذا لفظِ خدا کے ساتھ منی استعمال کرنا پرلے درجے کی جہالت اور شرک ہے۔ 3: معبودِ برحق جسے اللہ اور خدا کہتے ہیں اس کی کوئی قسم نہیں ہے۔ کیونکہ جس کی قسمیں بنیں وہ مقسم ہوتا ہے اور مقسم کا قسموں پر اطلاق اور حمل ہوتا ہے۔ یعنی ہر ہر قسم پر مقسم بولا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر انسان کی دو قسمیں بنائیں: ایک قسم پڑھا ہوا انسان، اور دوسری قسم ان پڑھ انسان تو انسان مقسم ہے اور پڑھا ہوا انسان اور ان پڑھ انسان یہ دونوں اس کی قسمیں ہیں اور آپس میں ان دونوں کو قسم کہا جاتا ہے جو قسم میں آپس میں ایک دوسرے پر ان کا اطلاق نہیں ہوتا لیکن مقسم کا دونوں پر اطلاق ہوتا ہے جیسے پڑھے ہوئے انسان کو انسان کہہ سکتے ہیں، ان پڑھ انسان کو بھی انسان کہہ سکتے ہیں۔ لیکن پڑھے ہوئے انسان کو ان پڑھ انسان نہیں کہہ سکتے اور ان پڑھ انسان کو پڑھا ہوا انسان نہیں کہہ سکتے۔ بلا تشبیہ و تمثیل مرزا جہلمی کے باطل نظریے کے مطابق جب اس نے منی خدا کی اصطلاح گھڑی تو اس سے لازم آئے گا کہ ”خدا“ مقسم ہے اور منی خدا اور سپر خدا اس کی دو قسمیں ہیں۔ تو اس بنیاد پر مطلقاً لفظِ خدا جیسے سپر خدا پہ بولا جائے گا، ایسے منی خدا پہ بھی بولا جائے گا اور پھر خدا کی معاذ اللہ دو قسمیں قرار پائیں گی اور منی خدا، سپر خدا کا قسم بنے گا۔ حالانکہ شریعت میں یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ اللہ جل جلالہ اور خدا تعالیٰ کا نہ کوئی مقسم ہے اور نہ کوئی قسم ہے۔ یہ ساری خرابیاں اس جھوٹے نظریے کی بنیاد پر لازم آئیں جو مرزا جہلمی نے اپنی جہالت کی بنیاد پر منی خدا بول کر جن کا دروازہ کھولا۔ امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ عقیدۂ توحید کو بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جل جلالہ و خدا تعالیٰ کے واحد ہونے کا مطلب کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں: إنہ سبحانہ و تعالیٰ واحد فی ذاتہ لا قسیم لہ، و واحد فی صفاتہ لا شبیہ لہ، و واحد فی افعالہ لا شریك لہ. (تفسیر کبیر، جلد: 2، جزو: 4، سورۃ البقرہ: 163، صفحہ: 191، دار الفکر بیروت) بے شک اللہ سبحانہ وتعالیٰ واحد ہے (1) وہ اپنی ذات میں واحد ہے پس اس کا کوئی قسیم نہیں (2) وہ اپنی صفات میں واحد ہے پس اس کے کوئی مشابہ نہیں (3) وہ اپنے افعال میں واحد ہے پس اس کا کوئی شریک نہیں۔ تو اسلاف سے ہمیشہ یہ لکھتے آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی قسیم نہیں ہے جبکہ مرزا جہلمی کی گھڑی ہوئی اصطلاحی منی خدا سے معاذ اللہ، اللہ عز و جل کا قسیم ہونا لازم آتا ہے جو کہ معاذ اللہ کھلم کھلا توحید کی خلاف ورزی اور شرکیہ عقیدہ ہے۔ ھٰذَا مَا عِنْدِي وَاللہُ تَعَالیٰ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب وصلی اللہ تعالیٰ حبیبہ سیدنا محمد و آلہ و اصحابہ اجمعین والسلام مع الف اکرام محمد اشرف آصف جلالی مہتمم مرکز صراطِ مستقیم پاکستان بانی تحریک صراطِ مستقیم پاکستان سربراہ تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ العالمی 11 جمادی الثانی 1447ھ / 03 دسمبر 2025ء دستخط: محمد اشرف آصف جلالی مفتی ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی پرنسپل مرکز صراطِ مستقیم تاج باغ فیز III لاہور

پی ڈی ایف دستاویز