Tehreek Sirate Mustaqeem Pakistan

TSM (پاکستان)

فتاویٰ کی فہرست
عقائد

عظیم صحابیِ رسول ﷺ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بہت بڑے گستاخ اقبال شاہ نامی شخص کے بارے میں ڈاکٹر مفتی محمد اشرف آصف جلالی کا تفصیلی شرعی فتویٰ

August 25, 2025
پی ڈی ایف پڑھیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ خاتم النبیین، سید الرسل و خاتم المعصومین و علیٰ آلہ و اصحابہ اجمعین بندۂ ناچیز محمد اشرف آصف جلالی کو اقبال شاہ نامی شخص کی مجمعِ عام میں کی گئی ایک تقریر سے 9 منٹ کا ایک کلپ سینڈ کیا گیا اور اس کے بارے میں مختلف علماء حضرات کی طرف سے استفتاء کیا گیا۔ یہ تقریر اس شخص نے راولپنڈی تھانہ روات کی حدود میں اسی سال محرم الحرام 1447ھ میں کی۔ بندۂ ناچیز نے اس تقریر کا 9 منٹ کا اور ریجنل کلپ اچھی طرح سنا تو بندہ اس کی گستاخیوں سے بھری بھری گفتگو سے بہت حیران بھی ہوا اور پریشان بھی۔ اس کلپ میں کی گئی نہایت گستاخانہ گفتگو کا خلاصہ یہ ہے: 1: عظیم صحابیِ رسول ﷺ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اقبال شاہ نامی شخص نے بار بار معاذ اللہ لعنتی کہا۔ 2: حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معاذ اللہ، اللہ تعالیٰ کا عہد توڑنے والا کہا۔ 3: حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے معاذ اللہ اس نے فسادی کا لفظ استعمال کیا۔ 4: حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آیت کی غلط تشریح کے نتیجے میں معاذ اللہ جہنمی کہا۔ 5: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر قرآن اور حق چھپانے کا معاذ اللہ الزام لگایا۔ 6: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کی گئی صلح کو توڑنے کا معاذ اللہ الزام لگایا۔ 7: امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلافت سپرد کیے جانے کے بعد بھی آپ رضی اللہ عنہ کی خلافت کو معاذ اللہ ”بدمعاشی کی حکومت“ قرار دیا۔ 8: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے حامیوں کو معاذ اللہ ”فسادی ٹبر“ یعنی فسادی خاندان قرار دیا۔ 9: جماعتِ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے تقریباً نصف صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم جن میں بعض عشرہ مبشرہ بھی شامل ہیں، جو جنگ صفین میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے، ان سب کو معاذ اللہ فسادی اور لعنتی کہا۔ 10: حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ صلح کے بارے میں اس نے معاذ اللہ نہایت نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ چنانچہ حدیثِ رسول ﷺ کی روشنی میں کی گئی صلح کے بارے میں تبرائی انداز اختیار کرنے سے اس نے وجہِ توہینِ رسالت ﷺ بھی کی اور خلافتِ اسلامیہ کی بھی توہین کی۔ 11: نواسہ رسول ﷺ سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف معاذ اللہ من گھڑت اور نازیبا باتیں منسوب کیں۔ حالانکہ ان باتوں میں سے کسی کا کوئی سر پیر نہیں ہے بلکہ امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو حدیثِ رسول ﷺ کو سامنے رکھتے ہوئے اور خلافتِ اسلامیہ کے تقدس کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ سارا معاملہ طے کر رہے تھے۔ 12: اپنے جھوٹے اور من گھڑت دعوے کو تفسیرِ قرآن قرار دیتے ہوئے اس نے اپنی گستاخانہ رائے کو حکمِ خداوندی بنانے کی کوشش کی۔ 13: جس طرح خوارج کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: إِنَّهُمُ انْطَلَقُوا إِلَى آيَاتٍ نَزَلَتْ فِي الْكُفَّارِ فَجَعَلُوهَا عَلَى الْمُؤْمِنِينَ (صحیح بخاری، جلد: 4، کتاب استتابۃ المرتدین، باب قتل الخوارج والملحدین الخ، صفحہ: 298، دار الفکر بیروت) کہ خوارج نے ان آیات کو جو کفار کے بارے میں نازل ہوئیں، انہیں مسلمانوں پر چپاں کیا۔ ایسے ہی اقبال شاہ نامی شخص جو ویسے تو غلیظ قسم کا رافضی ہے کہ اس نے اپنی گفتگو میں کئی مرتبہ درود شریف پڑھا مگر ایک مرتبہ بھی ”آل“ کے بعد ”اصحاب“ کا ذکر نہیں کیا۔ لیکن یہ واردات اس نے خارجیت سے سیکھی ہے کہ جو آیات یہود و کفار کے بارے میں نازل ہوئی تھیں اور ان میں یہود کے مختلف جرائم کا تذکرہ تھا، اس نے بغیر کسی شرعی دلیل کے بڑی بے شرمی سے وہ آیات حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر معاذ اللہ فٹ کر دیں۔ تفسیرِ ماثور میں اور ائمہ اہلِ سنت کی تفاسیر میں کہیں دور دور تک ایسی بات کا نام و نشان نہیں۔ 14: اس نے جماعتِ ناجیہ اہلِ سنت و جماعت کو جو دیگر صحابہ و اہلِ بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی طرح حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی ادب کرتے ہیں اور دفاع کرتے ہیں، ان کو لعنتی کہا۔ 15: اقبال شاہ کی یہ گفتگو، اس کا اسلوب، اس کی باڈی لینگویج، اس کا فاسد استدلال اور بار بار اہلِ سنت کو جھڑکنا اور اپنے مؤقف پر اہلِ سنت کو للکارنا، اسے کوئی سبقتِ لسانی کہہ کر یا بھول چوک کہہ کر بات کو ٹالنا چاہے تو اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کی گفتگو سے یہ واضح معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس کا سوچا سمجھا اور کافی دیر پہلے کا گھڑا ہوا نظریہ تھا جسے اس نے اپنی رافضی سوچ سے کئی سال دے کے پروان چڑھایا۔ اگرچہ نفس الامر میں اس کی یہ گفتگو نہایت ہی گستاخانہ اور مجرمانہ ہے۔ ویسے تو اس گفتگو کے اندر بہت سے ایسے موضوعات ہیں جن کا تفصیلاً رد کرنے کی ضرورت ہے، لیکن خصوصی طور پر اس نے جو ہزاروں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور خصوصی طور پر حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر زیادہ گستاخانہ حملے کیے ہیں، اس لحاظ سے اس موضوع کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہی فتویٰ لکھا جا رہا ہے۔ اہلِ سنت کے مقتدیان کرام اور علماء و مشائخ سے ایک اپیل اس سال محرم الحرام میں ایک فرقے کی طرف سے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی گستاخیوں کے واقعات معاذ اللہ ہزاروں کی تعداد میں ریکارڈ کیے گئے۔ اور اب یہ مرضِ معاذ اللہ کچھ نام نہاد اہلِ سنت میں بھی سرایت کر رہا ہے۔ اس لیے آگے ذکر کی جانے والی احادیثِ رسول ﷺ کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے تمام مقتدیان کرام اور علماء و مشائخ اپنی نہایت اہم ڈیوٹی پوری کریں۔ احادیثِ رسول ﷺ 1: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللهَ اللهَ فِي أَصْحَابِي، اللهَ اللهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللهَ، وَمَنْ آذَى اللهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ. (سنن ترمذی، جلد: 4، کتاب المناقب، باب فی فضل من بایع تحت الشجرۃ، حدیث: 3862، صفحہ: 535، دار الکتب العلمیہ بیروت) حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، میرے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، میرے بعد ان کو نشانہ نہ بنانا۔ پس جو ان سے محبت کرتا ہے وہ میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کرتا ہے۔ اور جو ان سے بغض رکھتا ہے وہ میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھتا ہے اور جس نے ان کو اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی، اور جس نے مجھے اذیت پہنچائی اس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچانے کی کوشش کی، اور جس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچانے کی کوشش کی، پس قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو پکڑ لے۔ 2: عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: إِذَا ظَهَرَتْ أُمَّتِي الْبِدَعَ وَشَتَمَ أَصْحَابِي فَلْيُظْهِرِ الْعَالِمُ عِلْمَهُ، فَإِنَّ كَاتِمَ الْعِلْمِ يَوْمَئِذٍ كَكَاتِمِ مَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ ﷺ. (کتاب الشریعۃ، باب ذکر اللعنۃ علی من سب اصحاب رسول اللہ ﷺ، حدیث نمبر: 1987، صفحہ: 685، دار ابن حزم) حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب میری امت میں بدعقیدگی ظاہر ہو جائے اور میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالیاں دی جائیں تو عالم کو چاہیے کہ وہ اپنے علم کو ظاہر کرے۔ بے شک اس زمانے میں علم کو چھپانے والا ایسے ہی (مجرم) ہے جیسے میرے اوپر نازل ہونے والے قرآن کو چھپانے والا (مجرم) ہے۔ 3: عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: إِذَا لَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا فَمَنْ كَتَمَ حَدِيثًا فَقَدْ كَتَمَ مَا أَنْزَلَ اللهُ. (سنن ابن ماجہ، جلد: 1، مقدمہ، باب من سُئل عن علم فکتمہ، حدیث: 263، صفحہ: 158، دار الکتب العلمیہ بیروت) حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جس وقت اس امت کے بعد والے لوگ پہلوں (صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم) پر (معاذ اللہ) لعنت کریں۔ پس جس نے اس وقت حدیث کو چھپایا تو وہ ایسے ہی ہے کہ اس نے قرآن کو چھپایا۔ 4: امام ابو بکر بن خلال رحمہ اللہ تعالیٰ متوفی 311ھ ”کتاب السنۃ“ میں لکھتے ہیں: عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا ظَهَرَتِ الْبِدَعُ، وَسَبَّ أَصْحَابِي، فَعَلَى الْعَالِمِ أَنْ يُظْهِرَ عِلْمَهُ. فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ. (السنۃ لأبی الخلال، حدیث: 772، ذکر الروافض، صفحہ: 400، دار الاوراق الثقافیہ) حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب بد اعتقادیاں ظاہر ہو جائیں اور میرے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو گالیاں دی جائیں تو عالم پر فرض ہے کہ اپنے علم کو ظاہر کرے۔ پس اگر (کسی وجہ سے) عالم نے (دفاعِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے لیے) اپنے علم کو ظاہر نہ کیا تو پس اس عالم پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور سارے لوگوں کی لعنت ہے۔ بندۂ ناچیز دوبارہ تمام مقتدیان کرام سے، علماء و مشائخ سے عرض گزار ہے کہ آج کا زمانہ انہیں انہیں زمانوں میں سے ایک زمانہ ہے کہ جس میں دفاعِ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نہ کرنے والے علماء پر اتنی شدید وعید حدیث میں سنائی گئی ہیں۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحابیت قطعی ہے اور آپ کی صحابیت پر اجماع ہے اکثر روایات کے مطابق آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فتحِ مکہ کے موقع پر اسلام لائے جبکہ بعض روایات اس سے پہلے کی بھی ہیں۔ اور اس کے بعد آپ کو اللہ تعالیٰ نے استقامت عطا فرمائی اور رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں جہاد میں بھی حصہ لیا۔ فتحِ مکہ سے پہلے اسلام قبول کرنے والے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور فتحِ مکہ کے بعد اسلام قبول کرنے والے رضی اللہ تعالیٰ عنہم اگرچہ درجے میں برابر نہیں ہیں، لیکن سب سے اللہ نے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے۔ 1: لَا يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَّنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قَاتَلَ ۚ أُولٰئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَ قَاتَلُوا ۚ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللهُ الْحُسْنٰى ۚ وَ اللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ. (سورۃ الحدید: 10) تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتحِ مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا، وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعدِ فتح کے خرچ اور جہاد کیا اور ان سب سے اللہ جنت کا وعدہ کر چکا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ 2: إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰى ۙ أُولٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ. (سورۃ الانبیاء: 101) بے شک وہ جن کے لیے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہو چکا وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں۔ 3: رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوا عَنْهُ. (سورۃ التوبہ: 100) اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی۔ ان آیاتِ کریمہ میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا وعدہ کیا گیا ہے، حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قطعی طور پر اس فہرست میں موجود ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کی کوئی اور فضیلت اگر اپنی بدقسمتی کی وجہ سے معاذ اللہ کوئی نہیں مانتا تو شرفِ صحابیت اتنا بڑا شرف ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی معمولی سی توہین بھی بندے کو تباہ و برباد کر دیتی ہے۔ خصوصی طور پر صحیح بخاری شریف میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صحابیِ رسول ﷺ اور رضی اللہ عنہ فقیہ اور امیر المؤمنین جیسے القاب سے ذکر کیا گیا ہے: 1: عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: أَوْتَرَ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ الْعِشَاءِ بِرَكْعَةٍ وَعِنْدَهُ مَوْلًى لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: دَعْهُ فَإِنَّهُ صَحِبَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (صحیح بخاری، جلد: 2، کتاب فضائل الصحابہ رضی اللہ عنہم، باب ذکر معاویۃ، صفحہ: 437، دار الفکر بیروت) حضرت ابن ابی ملیکہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عشاء کے بعد ایک وتر پڑھا۔ حال یہ تھا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے غلام موجود تھے، وہ اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور انہیں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں (اعتراض کی صورت میں) یہ بات بتائی تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: انہیں چھوڑ دیں، (یعنی ان پر اعتراض نہ کریں) کیونکہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت کا شرف پایا ہے۔ 2: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: هَلْ لَكَ فِي أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مُعَاوِيَةَ فَإِنَّهُ مَا أَوْتَرَ إِلَّا بِوَاحِدَةٍ. قَالَ: إِنَّهُ فَقِيهٌ. (صحیح بخاری، جلد: 2، کتاب فضائل الصحابہ رضی اللہ عنہم، باب ذکر معاویۃ، صفحہ: 437، دار الفکر بیروت) حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا گیا: کیا آپ حضرت امیر المؤمنین حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں کچھ کہیں گے کیونکہ وہ صرف ایک وتر پڑھتے ہیں؟ تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: معاویہ (عام صحابی نہیں بلکہ) فقیہ ہیں۔ ترمذی شریف میں ہے: 3: عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ. (سنن ترمذی، جلد: 4، کتاب المناقب، باب مناقب معاویۃ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ، صفحہ: 526، دار الکتب العلمیہ بیروت) رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: اے اللہ! معاویہ کو ہدایت دینے والا اور ہدایت دیا گیا بنا۔ اور ان کے ذریعے سے اوروں کو ہدایت دے۔ حدیث کی کتابوں میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے فضائل کے بارے میں مستقل ابواب موجود ہیں، مثلاً: 1: ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی 297ھ کی کتاب ”سنن الترمذی“ میں باب ہے: ”باب مناقب معاویۃ ابن ابی سفیان رضی اللہ عنہما“ (سنن ترمذی، جلد: 4، کتاب المناقب، صفحہ: 526، دار الکتب العلمیہ بیروت) 2: امام احمد بن حنبل متوفی 241ھ کی کتاب ”فضائل الصحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین“ میں باب ہے: ”باب فضائل معاویۃ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہما“ (فضائل الصحابہ، جلد: 2، صفحہ: 1155، دار ابن الجوزی سعودیہ) 3: امام ابو بکر محمد بن حسین الآجری الشافعی متوفی 360ھ نے ”کتاب الشریعۃ“ کے اندر صفحہ نمبر 663 پر ذکر کیا ہے: ”کتاب فضائل معاویۃ ابن ابی سفیان رضی اللہ عنہما“ جس میں انہوں نے حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل کے بارے میں دس ابواب میں سولہ احادیث ذکر کیں۔ (کتاب الشریعۃ، کتاب فضائل معاویہ رضی اللہ عنہما، صفحہ: 663-678، دار ابن حزم بیروت) 4: مشہور محدث امام ابن الاثیر جزری متوفی 606ھ نے ”جامع الاصول فی حدیث الرسول ﷺ“ کی کتاب ”فضائل الصحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم“ میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل کا ذکر کیا۔ (جامع الاصول فی احادیث الرسول ﷺ، جلد: 9، کتاب فضائل الصحابہ ﷺ، معاویۃ ابن ابی سفیان، صفحہ: 87، دار الکتب العلمیہ بیروت) 5: امام جوزقانی کی کتاب الاباطیل والمناکیر والصحاح والمشاہیر میں باب ہے: ”باب فی فضائل طلحہ و زبیر و معاویہ و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم“ (کتاب الاباطیل والمناکیر والصحاح والمشاہیر، صفحہ: 92، دار الفکر بیروت) ائمہ اسلام کا حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں مؤقف 1: امام نووی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 676ھ شرح صحیح مسلم میں لکھتے ہیں: أَمَّا مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَهُوَ مِنَ الْعُدُولِ الْفُضَلَاءِ وَالصَّحَابَةِ النُّجَبَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. (شرح صحیح مسلم للنووی، کتاب فضائل الصحابہ رضی اللہ عنہم، صفحہ: 272، قدیمی کتب خانہ کراچی) جہاں تک حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات ہے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایسے عادلین میں سے ہیں جو فضلاء ہیں اور نجباء صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے ہیں۔ 2: امام شرف الدین طیبی متوفی 743ھ لکھتے ہیں: أَمَّا مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَهُوَ مِنَ الْعُدُولِ الْفُضَلَاءِ وَالصَّحَابَةِ الْخِيَارِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ. جہاں تک حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات ہے تو آپ ایسے عادلین میں سے ہیں جو فضلاء ہیں اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سردار صحابہ میں سے ہیں۔ (شرح طیبی علی مشکوٰۃ المصابیح، جلد: 11، باب مناقب الصحابہ رضی اللہ عنہم، صفحہ: 209، دار الکتب العلمیہ بیروت) 3: حضرت امام عبد العزیز پروہاروی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: وَأَقُولُ قَدْ صَرَّحَ عُلَمَاءُ الْحَدِيثِ بِأَنَّ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ كِبَارِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَنُجَبَائِهِمْ وَمُجْتَهِدِيهِمْ وَلَوْ سُلِّمَ أَنَّهُ مِنْ صِغَارِهِمْ فَلَا شَكَّ فِي أَنَّهُ دَخَلَ فِي عُمُومِ الْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ الْوَارِدَةِ فِي تَشْرِيفِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، بَلْ قَدْ وَرَدَ فِيهِ بِخُصُوصِهِ أَحَادِيثُ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ“، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ اللَّهُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِيَةَ الْحِسَابَ وَالْكِتَابَ وَقِهِ الْعَذَابَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَمَا قِيلَ: مِنْ أَنَّهُ لَمْ يَثْبُتْ فِي فَضْلِهِ حَدِيثٌ فَمَحَلُّ نَظَرٍ. وَكَانَ السَّلَفُ يَغْضَبُونَ مَنْ سَبَّهُ وَطَعَنَهُ، وَقِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ مُعَاوِيَةَ صَلَّى الْوِتْرَ رَكْعَةً وَاحِدَةً. قَالَ: دَعْهُ فَإِنَّهُ فَقِيهٌ صَحِبَ رَسُولَ اللهِ ﷺ. كَمَا فِي صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ. وَسَبَّهُ رَجُلٌ عِنْدَ خَلِيفَةٍ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَجَلَدَهُ. (المنبر اس شرح عقائد، باب فی اختلف الفقہاء فی حکم من سب الصحابہ، صفحہ: 550-551، شاہ عبد الحق اکیڈمی بندیال شریف) میں کہتا ہوں کہ علماءِ حدیث نے یہ صراحت کی ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (صرف صحابی ہی نہیں بلکہ) کبار صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے، نجباء صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے اور مجتہد صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے تھے۔ اور اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ وہ صغار صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے تھے تو پھر بھی کوئی شک نہیں کہ جتنی احادیثِ صحیحہ بھی صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے شرفِ صحابیت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں، ان کے عموم میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی داخل ہیں۔ بلکہ انفرادی طور پر کچھ احادیث آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل میں وارد ہوئی ہیں جس طرح کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان: اے اللہ! معاویہ کو ہدایت دینے والا اور ہدایت دیا گیا بنا اور ان کے ذریعے سے اوروں کو ہدایت دے۔ اس کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث بھی ہے: اے اللہ! معاویہ کو حساب اور کتاب کا علم عطا فرما اور انہیں عذاب سے محفوظ فرما۔ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے۔ اور جو کچھ لوگوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل میں کوئی حدیث ثابت نہیں تو یہ بات محلِ نظر ہے۔ جو شخص حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معاذ اللہ گالی دیتا تھا، یا آپ پر طعن کرتا تھا، اسلاف اس سے عداوت رکھتے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وتر ایک رکعت پڑھے تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اعتراض نہ کرو کیونکہ وہ فقیہ ہیں اور صحابیِ رسول ﷺ ہیں۔ ایک شخص نے خلیفہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کے پاس حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گالی دی تو انہوں نے اس کو کوڑے مارے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا معاملہ بہت ہی حساس ہے آج یہ بھی ایک فتنہ ہے کہ کچھ لوگ سوئے اعتقاد کی وجہ سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت کو متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور روافض کے زہریلے پروپیگنڈے کی وجہ سے کچھ لوگ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تنقید کرنے کو معمولی بات تصور کرتے ہیں۔ حالانکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا صحابی ہونا قطعی اور اجماعی ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابِي فَأَمْسِكُوا۔ (المعجم الکبیر، جلد: 2، حدیث: 1427، صفحہ: 96، دار احیاء التراث العربی) جب میرے کسی صحابی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا جائے تو زبانوں کو سنبھال لو۔ (یعنی فضائل تو بیان کرو مگر جو بات تنقید کے زمرے میں آتی ہے اس سے فوراً زبان کو روک لو)۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں تنقید کرنا تو حرام ہے لیکن حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا معاملہ اتنا اہم نہیں ہے۔ یہ لوگ بھی شدید غلطی پر ہیں۔ اس بارے میں حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کا فیصلہ بڑ اہم ہے۔ ”سُئِلَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ ﷺ فَقَالَ: إِنَّمَا الْإِسْلَامُ كَدَارٍ لَهَا بَابٌ، فَبَابُ الْإِسْلَامِ الصَّحَابَةُ، فَمَنْ آذَى الصَّحَابَةَ، إِنَّمَا أَرَادَ الْإِسْلَامَ، كَمَنْ نَقَرَ الْبَابَ، إِنَّمَا يُرِيدُ دُخُولَ الْبَابِ. قَالَ: فَمَنْ أَرَادَ مُعَاوِيَةَ فَإِنَّمَا أَرَادَ الصَّحَابَةَ“ (تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، جلد: 1، باب الالف: من اسمہ احمد، صفحہ: 158، دار الفکر بیروت) امام ابو عبد الرحمن نسائی رحمۃ اللہ علیہ سے صحابیِ رسول حضرت سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے (جواب میں) فرمایا: اسلام کی مثال ایک قلعے کی ہے جس کا ایک دروازہ ہو۔ اسلام کا دروازہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں۔ جو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر طعن و تشنیع کرتا ہے، سوائے اس کے نہیں کہ وہ اصل میں اسلام پر حملے کا ارادہ کرتا ہے۔ جیسے کوئی شخص دروازے کو توڑ رہا ہو تو اس کا مقصد صرف دروازہ توڑنا نہیں ہوتا بلکہ دروازے سے اندر قلعے میں داخل ہونا ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا: جس ہستی پر حملہ کرنے سے قلعے کے دروازے یعنی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر حملہ ہوتا ہے وہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ گویا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام کے قلعے کے دروازے سے بھی آگے ایک کردار کا نام ہے جو دروازے کو توڑنے والوں کے لیے رکاوٹ کا کردار ادا کرتا ہے۔ یعنی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سارے صحابہ رضی اللہ عنہم کی دفاعی لائن میں ہیں اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سارے اسلام کے دفاع کا کردار ادا کرتے ہیں۔ جو شخص حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن کرتا ہے تو اس کا مقصد جماعتِ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر (بشمول حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے) طعن کرنا ہے۔ (اور جو صحابہ رضی اللہ عنہم پر طعن کرتا ہے وہ پورے اسلام کو معاذ اللہ مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔) اس سے پتا چلتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں جو شخص زبان درازی شروع کرتا ہے اور یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ وہ کون سا خلفاءِ اربعہ رضی اللہ عنہم میں سے ہیں کہ ان کا معاملہ عام سا ہے۔ لیکن یہ سوچ اتنی خطرناک ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف بک بک کرنے والا ایک دن معاذ اللہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظمت و شان پر بھی بکو اس کو شروع کر دیتا ہے اور پھر آگے پورے اسلام کے خلاف زبانِ طعن دراز کر بیٹھتا ہے اور جہنمی بن جاتا ہے۔ چنانچہ ہلاکت کی بنیاد حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف زبان درازی سے ہوئی سے ہوئی تو تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اور پورے دین کی گستاخی سے بچنے کے لیے ضروری قرار پایا کہ معاذ اللہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہرگز ہلکی سی گستاخی بھی نہ کی جائے۔ اسی سلسلے میں مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: شتم او را در رنگِ شتمِ ابی بکر و عمر و عثمان رَضِیَ اللہُ عَنْھُم ساختہ است. (مکتوبات امام ربانی، جلد: 1، حصہ چہارم: در المعرفت، مکتوب نمبر: 251، صفحہ: 59، مکتبہ احمدیہ مجدد یہ کوئٹہ) حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گالی دینا معاذ اللہ حضرت سیدنا صدیق اکبر، حضرت سیدنا فاروق اعظم اور حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو گالی دینا قرار دیا ہے۔ کچھ لوگ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر معاذ اللہ اس لیے طعن کرتے ہیں کہ وہ سیدنا علی المرتضیٰ مشکل کشا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقابلے میں جنگ پر کیوں نکلے؟ جبکہ یہ اجتہادی طور پر تھا، عنادی طور پر نہیں تھا۔ ایسے لوگوں کے بارے میں حضرت مجدد الف ثانی کا فتویٰ بھی ملاحظہ کیجیے۔ اور یہ تنقید بھی اقبال شاہ نامی گستاخ نے اپنے گستاخانہ کلپ میں کی ہے۔ پس مُعَاوِیَہ مُسْتَحِقِّ ذمّ و نکوہش نباشد۔ اے برادر! معاویہ تنہا در ایں معاملہ نیست بلکہ نصفے از اصحابِ کرام کم و بیش دریں معاملہ با وے شریک اند۔ پس محاربانِ امیر اگر کفرہ یا فسقہ باشند اعتماد از شطر دین میخیزد کہ از راہِ تبلیغ ایشاں بما رسیدہ است و تجویز نکنند ایں معنی را مگر زندیقی کہ مقصودش ابطالِ دین است۔ (مکتوبات امام ربانی، جلد: 1، حصہ چہارم: در المعرفت، مکتوب نمبر: 251، صفحہ: 59، مکتبہ احمدیہ مجدد یہ کوئٹہ) پس حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مذمت کے مستحق نہیں ہیں۔ اے بھائی! جنگ صفین میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تنہا اس معاملے میں نہیں تھے بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے کم و بیش نصف صحابہ رضی اللہ عنہم اس معاملے میں ان کے ساتھ شریک تھے۔ پس حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقابلہ میں جنگ کے لیے نکلنے والے اگر (معاذ اللہ) کافر یا فاسق ہوں تو آدھے دین سے اعتماد اٹھ جائے گا کیونکہ نصف صحابہ رضی اللہ عنہم کی تبلیغ سے ہم تک پہنچا ہے۔ اور اس بات کو جائز قرار نہیں دے سکتا نصف دین سے اعتماد اٹھ جائے مگر وہی شخص جو زندیق ہے جس کا مقصد دین کو باطل کرنا ہے۔ اقبال شاہ نے سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے خلاف عنہ کو دستبردار ہونے کو اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے خلاف کرنے کو جس تبرائی انداز میں اور تحقیر آمیز لہجے میں بیان کیا ہے یہ اتنی خطرناک بات ہے کہ توہینِ رسالت ﷺ اور توہینِ خداوندی جل جلالہ تک جا پہنچتی ہے۔ اس سلسلے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں: وَبِهِ ظَهَرَ أَنَّ الطَّعْنَ عَلَى الْأَمِيرِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ طَعْنٌ عَلَى الْإِمَامِ الْمُجْتَبَى، بَلْ عَلَى جَدِّهِ الْكَرِيمِ ﷺ، بَلْ عَلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ تَفْوِيضَ أَزِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ بِيَدِ مَنْ هُوَ كَذَا وَكَذَا بِزَعْمِ الطَّاعِنِينَ خِيَانَةٌ لِلْإِسْلَامِ وَالْمُسْلِمِينَ وَقَدِ ارْتَكَبَهَا مَعَاذَ اللهِ الْإِمَامُ الْمُجْتَبَى وَارْتَضَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ”وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى“ فَاحْفَظْهُ، فَإِنَّهُ يَنْفَعُ مَنْ أَرَادَ اللهُ هُدَاهُ. (المعتقد المنتقد مع المستند المعتمد، الباب الرابع فی الامامۃ، صفحہ: 242، دار العرفان سبزہ زار لاہور) حدیث ”فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ“ سے ثابت ہوا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن کرنا حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن کرنا ہے بلکہ حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جدِ کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر طعن کرنا ہے۔ بلکہ آپ ﷺ کے رب جل جلالہ پر طعن کرنا ہے کیونکہ ایسی ہستی کو مسلمانوں کے امور کے اختیارات سونپنا جو اعتراض کرنے والوں کے بقول ان میں فلاں فلاں خامی تھی، تو یہ خلافت کی سپردگی اسلام اور مسلمانوں سے معاذ اللہ خیانت قرار پائے گی۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہستی کے بارے میں جس طرح طعن کرنے والے گمان کر رہے ہیں، حالانکہ یہ کام سرانجام دینے والے (جس کو مخالفین معاذ اللہ معیوب سمجھ رہے ہیں) حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیا ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے اسے پسند فرمایا ہے۔ اور آپ ﷺ کی ہستی وہ ہستی ہے کہ ”وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے“ اسے اچھی طرح یاد کر لو کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دینا چاہے یہ بات اسے بہت فائدہ دینے والی ہے۔ نیز اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے فتاویٰ رضویہ شریف میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں: ہمارے شہزادۂ اکبر حضرت سبطِ اکبر حضرت حسن (اکبر حسن) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حسبِ بشارت اپنے جدِ امجد سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد اختتامِ مدت (خلافتِ راشدہ کہ منہاجِ نبوت پر تیس سال رہی اور سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چھ ماہ مدتِ خلافت پر ختم ہوئی) عین معرکۂ جنگ میں ایک فوجِ جرار کی ہمراہی کے باوجود (بالقصد والا اختیار) ہتھیار رکھ دیے اور ملک (اور امورِ مسلمین کا انتظام و انصرام) امیر معاویہ کو سپرد کر دیا (اور ان کے ہاتھ پر بیعتِ اطاعت فرمائی) اگر امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فریق العیاذ باللہ فاسق تھے یا ظالم جائر تھے یا غاصب جابر تھے۔ (ظلم و جور پر کمر بستہ) تو الزام امام حسن پر کمر بستہ آتا ہے کہ انہوں نے کاروبارِ مسلمین کا انتظام شرعی و دین با اختیارِ خود (بلا جبر و اکراہ بلا ضرورتِ شرعیہ، باوجودِ مقدرت) ایسے شخص کو تفویض فرما دیا (اور اس کی تحویل میں دے دیا) اور خیر خواہیِ اسلام کو معاذ اللہ کام نہ فرمایا (اس سے ہاتھ اٹھا لیا) اگر مدتِ خلافت ختم ہو چکی تھی اور آپ (خود) بادشاہت منظور نہیں فرماتے تھے (خود) تو صحابہ حجاز میں کوئی اور قابلیت نظم و نسق دین نہ رکھتا تھا جو انہیں کو اختیار کیا۔ اور انہیں کے ہاتھ پر بیعتِ اطاعت کر لی۔ اور انہیں کے ہاتھ پر بیعتِ اطاعت کر لی۔ حاش للہ بلکہ یہ بات خود رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک پہنچتی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی پیش گوئی میں ان کے اس فعل کو پسند فرمایا اور ان کی سیادت کا نتیجہ ٹھہرایا کما فی صحیح البخاری (جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے) صادق و مصدوق صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسبت فرمایا: ”إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ لَعَلَّ اللهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ.“ (میرا یہ بیٹا سید ہے، سیادت کا علمبردار) میں امید کرتا ہوں کہ اللہ عز و جل اس کے باعث دو بڑے گروہ اسلام میں صلح کرا دے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد: 30، رسالہ: اعتقاد الاحباب فی الجمیل والمصطفیٰ ﷺ والآل والاصحاب، عقیدہ سابعہ، صفحہ: 378، رضا فاؤنڈیشن لاہور) حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی گستاخی کرنے کے جرم کا جرمِ عظیم ہے 1: امام ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ حاکم نیشا پوری متوفی 405ھ فرماتے ہیں: عَنْ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى اخْتَارَنِي وَاخْتَارَ لِي أَصْحَابًا. فَجَعَلَ لِي مِنْهُمْ وُزَرَاءَ وَأَنْصَارًا وَأَصْهَارًا، فَمَنْ سَبَّهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ.“ (المستدرک للحاکم، جلد: 4، کتاب معرفۃ الصحابہ، باب ذکر عویم بن ساعدہ، حدیث: 6715، صفحہ: 833، دار المعرفہ بیروت) حضرت عویم بن ساعدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے پسند کیا اور میرے لیے سارے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو پسند کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے میرے لیے وزراء بنائے اور انصار بنائے اور سسر اور داماد بنائے۔ پس جو شخص صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو گالی دے، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور ملائکہ کی لعنت اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ اس سے قیامت کے دن کوئی نفل اور فرض عبادت قبول نہیں کی جائے گی۔ 2: عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ مَنْ سَبَّ أَصْحَابِي فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ. (الکبائر للذہبی، الکبیرۃ السبعون: سب احد من الصحابۃ، صفحہ: 280، مکتبۃ الصفاء قاہرہ) (الجامع الصغیر فی احادیث البشیر النذیر، جلد: 2، باب المیم، حدیث: 8735، صفحہ: 529، دار الکتب العلمیہ بیروت) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتی ہیں: جس نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی کو گالی دی، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ 3: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: مَنْ سَبَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِي فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ. (المعجم الاوسط، جلد: 1، من اسمہ احمد، حدیث: 1864، صفحہ: 501، دار الفکر بیروت) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے میرے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی کو گالی دی اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے کسی کی توہین کرنا کتنا بڑا جرم ہے اس کا کچھ اندازہ ائمہ اسلام کے ان اقوال سے لگایا جا سکتا ہے۔ 1: حضرت امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: وَكَيْفَ يَجُوزُ الطَّعْنُ فِي حَمَلَةِ دِينِنَا وَفِيمَنْ لَمْ يَأْتِنَا خَبَرٌ عَنْ نَبِيِّنَا إِلَّا بِوَاسِطَتِهِمْ فَمَنْ طَعَنَ فِي الصَّحَابَةِ فَقَدْ طَعَنَ فِي نَفْسِ دِينِهِ فَيَجِبُ سَدُّ الْبَابِ جُمْلَةً وَاحِدَةً لَا سِيَّمَا الْخَوْضُ فِي أَمْرِ مُعَاوِيَةَ وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَأَضْرَابِهَا. (الیواقیت والجواہر، جلد: 2، المبحث الرابع فی بیان وجوب الکف عما شجر بین الصحابۃ، صفحہ: 323، دار صادر بیروت) اور کس طرح جائز ہے کہ ہمارے دین کے حاملین یعنی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر طعن کرنا اور ان ہستیوں پر طعن کرنا کہ ہمارے نبی علیہ السلام کی کوئی حدیث بھی ہم تک نہیں پہنچی مگر ان صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی وساطت سے، پس جس شخص نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے بارے میں طعن کیا، اس نے خود دینِ اسلام پر طعن کیا۔ پس واجب ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے بارے میں طعن کے دروازے کو مکمل طور پر بند کرنا، خصوصی طور پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کی مثل دیگر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے بارے میں کسی عیب کے کھوج لگانے کا دروازہ بند کرنا۔ 2: امام ابو بکر احمد بن علی المعروف خطیب بغدادی لکھتے ہیں کہ امام ابو زرعہ رازی نے کہا: ”إِذَا رَأَيْتَ الرَّجُلَ يَنْتَقِصُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ ﷺ فَاعْلَمْ أَنَّهُ زِنْدِيقٌ وَذَلِكَ أَنَّ الرَّسُولَ ﷺ عِنْدَنَا حَقٌّ وَالْقُرْآنَ حَقٌّ، وَإِنَّمَا أَدَّى إِلَيْنَا هَذَا الْقُرْآنَ وَالسُّنَنَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ ﷺ وَإِنَّمَا يُرِيدُونَ أَنْ يَجْرَحُوا شُهُودَنَا، لِيُبْطِلُوا الْكِتَابَ وَالسُّنَّةَ. وَالْجَرْحُ بِهِمْ أَوْلَى، وَهُمْ زَنَادِقَةٌ.“ (الکفایۃ فی معرفۃ الاصول، جلد: 1، باب ما جاء فی تعدیل اللہ ورسولہ ﷺ للصحابۃ وانہ لا یحتاج للسؤال، صفحہ: 188، مکتبہ ابن عباس مصر) جب تم یہ دیکھو کہ کوئی شخص اصحاب رسول اللہ ﷺ میں سے کسی ایک کے بھی نقص بیان کر رہا ہے کہ وہ زندیق ہے۔ اور یہ اس لیے ہے کہ بے شک ہمارے نزدیک یقیناً رسول اللہ ﷺ حق ہیں اور قرآن حق ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری طرف یہ قرآن مجید اور سنتِ رسول ﷺ صرف اور صرف اصحابِ رسول اللہ ﷺ نے پہنچائی ہیں۔ جو لوگ اصحاب رسول ﷺ کے خلاف زبان درازی کرتے ہیں اس کے سوائے اس کے نہیں کہ وہ کتاب اور سنت کو معاذ اللہ باطل کرنے کے لیے ہمارے عظیم گواہوں پر جرح کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے نابکار لوگ خود بہت زیادہ مجروح ہیں اور یہ زندیق ہیں۔ 3: ایسے ہی امام محمود آلوسی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 1270ھ نے ”الاجوبۃ العراقیۃ علی الاسئلۃ اللاہوریۃ“ مطبوعہ دار ابن قیم کے صفحہ 70 پر امام ابو زرعہ رازی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ مذکورہ قول نقل کیا ہے۔ 4: حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے گستاخی کے جرم کو نہایت گھناؤنا قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: قَالَ مَالِكٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: ”إِنَّمَا هَؤُلَاءِ أَقْوَامٌ أَرَادُوا الْقَدْحَ فِي النَّبِيِّ ﷺ فَلَمْ يُمْكِنْهُمْ ذَلِكَ؛ فَقَدَحُوا فِي أَصْحَابِهِ يُقَالُ: رَجُلُ سَوْءٍ؛ وَلَوْ كَانَ رَجُلًا صَالِحًا لَكَانَ أَصْحَابُهُ صَالِحِينَ.“ (الصارم المسلول لابن تیمیۃ، حکم من سب الصحابۃ او احدھم، صفحہ: 553، دار الکتب العربی بیروت) سوائے اس کے نہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی گستاخی کرنے والوں نے اصل میں تو رسول اللہ ﷺ پر طعن کرنے کا معاذ اللہ ارادہ کیا لیکن ان کو حملہ کرنے کی ہمت نہ ہو سکی تو پھر انہوں نے اپنا مذموم مقصد پورا کرنے کے لیے معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی توہین کی۔ ان کی یہ غرض تھی کہ کہا جائے کہ معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ کو ”رجل سوء“ کہا جائے تا کہ لوگ یہ کہیں کہ اگر رسول اللہ ﷺ نیک ہوتے تو آپ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی نیک ہوتے۔ یہاں سے یہ واضح پتا چل رہا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر تنقید کرنے والوں کا اصل نشانہ معاذ اللہ رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ گرامی ہے۔ 5: حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی فاروقی فرماتے ہیں: قرآن و احادیث بہ تبلیغِ اصحابِ کرام بما رسیدہ است چون اصحاب مطعون باشند دینے کہ از راہِ ایشاں بما رسیدہ است نیز مطعون خواہد بود و نعوذ باللہ سبحانہ من ذلک. (مکتوبات امام ربانی، جلد: 2، حصہ ششم: نور الخلائق، صفحہ: 82، مکتبہ احمدیہ مجدد یہ کوئٹہ) قرآن اور احادیث ہمارے پاس صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی تبلیغ سے پہنچے ہیں جب صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم معاذ اللہ مطعون ہوں گے تو وہ دین کہ جو ان کے ذریعے سے ہمارے پاس پہنچا ہے، وہ دین بھی معاذ اللہ مطعون ہو جائے گا۔ 6: امام حافظ شمس الدین ذہبی متوفی 748ھ فرماتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن کرنے والا مسلمان نہیں رہ سکتا۔ فَمَنْ طَعَنَ فِيهِمْ أَوْ سَبَّهُمْ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الدِّينِ وَمَرَقَ مِنْ مِلَّةِ الْمُسْلِمِينَ، لِأَنَّ الطَّعْنَ لَا يَكُونُ إِلَّا مِنِ اعْتِقَادِ مَسَاوِيهِمْ وَإِضْمَارِ الْحِقْدِ فِيهِمْ وَإِنْكَارِ مَا ذَكَرَهُ اللهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ مِنْ ثَنَائِهِ عَلَيْهِمْ وَمَا لِرَسُولِ اللهِ ﷺ مِنْ ثَنَائِهِ عَلَيْهِمْ وَبَيَانِ فَضَائِلِهِمْ وَمَنَاقِبِهِمْ وَحُبِّهِمْ، وَلِأَنَّهُمْ أَرْضَى الْوَسَائِلِ مِنَ الْمَأْثُورِ وَالْوَسَائِطِ مِنَ الْمَنْقُولِ، وَالطَّعْنُ فِي الْوَسَائِطِ طَعْنٌ فِي الْأَصْلِ، وَالِازْدِرَاءُ بِالنَّقْلِ ازْدِرَاءٌ بِالْمَنْقُولِ، هَذَا ظَاهِرٌ لِمَنْ تَدَبَّرَهُ، وَسَلِمَ مِنَ النِّفَاقِ وَمِنَ الزَّنْدَقَةِ وَالْإِلْحَادِ فِي عَقِيدَتِهِ. (الکبائر للذہبی، الکبیرۃ السبعون: سب احد من الصحابۃ، صفحہ: 282، مکتبۃ الصفاء قاہرہ) پس جس نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے بارے میں طعن کیا یا ان کو گالی دی یا ان سے بغض رکھا تو وہ دین سے بالکل نکل گیا اور ملتِ مسلمین سے خارج ہو گیا۔ کیونکہ کوئی بندہ ان میں سے کسی پر طعن نہیں کرے گا مگر اس صورت میں کہ وہ ان کے بارے میں ان کی معاذ اللہ (1) برائی کا اعتقاد رکھتا ہے، اور (2) ان کے بارے میں اپنے دل میں کینہ چھپائے ہوئے ہے اور (3) ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو کاذ کیا ہے اور ان کی تعریف کی ہے، یہ بندہ اس کا انکار کر رہا ہے۔ (4) اور رسول اللہ ﷺ نے جو صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی تعریف کی ہے اور ان کے فضائل و مناقب کو بیان کیا ہے اور ان کی محبت کا حکم دیا ہے، یہ بندہ اس کا انکار کر رہا ہے۔ ان چار وجوہ کی بنیاد پر جو شخص بھی صحابہ رضی اللہ عنہم پر طعن کرنے والا ہے وہ دین سے بالکل نکل گیا کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ماثور یعنی قرآن و سنت ہم تک پہنچنے کا سب سے بہترین وسیلہ ہیں اور منقول کے ہم تک پہنچنے کا سب سے عمدہ واسطہ ہیں۔ پس وسائط پر طعن کرنا اصل پر طعن کرنا ہے اور نقل میں شک کرنا منقول میں شک کرنا ہے۔ یہ بات اس شخص کے لیے بالکل ظاہر اور بدیع ہے جو اس میں تدبر کرے، اس شرط کے ساتھ کہ وہ اپنے عقیدے میں منافقت، زندیقیت اور الحاد سے محفوظ ظاہر ہو۔ 7: حسن بن علی بربہاری کہتے ہیں: مَنْ تَنَاوَلَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ ﷺ فَاعْلَمْ أَنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ مُحَمَّدًا، وَقَدْ آذَاهُ فِي الْقَبْرِ. (شرح السنۃ للبربہاری، صفحہ: 45) جس شخص نے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے کسی کی بھی توہین کی، تو جان لو کہ اس نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ گرامی پر حملہ کیا اور آپ ﷺ کو آپ کے روضۂ اقدس میں اذیت پہنچائی۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت 1: حضرت سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلافتِ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: وَأَمَّا خِلَافَةُ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَثَابِتَةٌ صَحِيحَةٌ بَعْدَ مَوْتِ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَبَعْدَ خَلْعِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا نَفْسَهُ عَنِ الْخِلَافَةِ وَتَسْلِيمِهَا إِلَى مُعَاوِيَةَ لِرَأْيٍ رَآهُ الْحَسَنُ وَمَصْلَحَةٍ عَامَّةٍ تَحَقَّقَتْ لَهُ، وَهِيَ حَقْنُ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَتَحْقِيقُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ فِي الْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ”إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ يُصْلِحُ اللهُ تَعَالَى بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ“ فَوَجَبَ إِمَامَتُهُ بَعْدَ الْحَسَنِ لَهُ فَسُمِّيَ عَامَ الْجَمَاعَةِ لِارْتِفَاعِ الْخِلَافِ بَيْنَ الْجَمِيعِ، وَاتِّبَاعِ الْكُلِّ لِمُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ هُنَاكَ مُنَازِعٌ ثَالِثٌ فِي الْخِلَافَةِ، وَخِلَافَتُهُ مَذْكُورَةٌ فِي قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ. (اصول الدین، خلافۃ معاویہ رضی اللہ عنہ، صفحہ: 271-272، مرکز جیلانی للبحوث اسطنبول) جہاں تک حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خلافت کی بات ہے تو وہ ثابت ہے اور صحیح ہے۔ خلافتِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا ثابت اور صحیح ہونا تین امور کے بعد ہے۔ (1) حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ و علیہ السلام کے وصال کے بعد (2) حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے خلاف سے دستبردار ہونے کے بعد اور (3) حضرت سیدنا حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلافت کے سپرد کرنے کے بعد، ایک رائے کی بنیاد پر جو حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قائم کی اور ایک مصلحت عامہ جو حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے ثابت ہوئی۔ اور اس مصلحت میں دو چیزیں تھیں۔ (1) مسلمانوں کے خونوں کا محفوظ ہونا۔ (2) سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو فرمان رسول اللہ ﷺ تھا، وہ واقع میں پایا جا سکے۔ وہ فرمان یہ حدیث شریف ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرا یہ بیٹا سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے دو عظیم جماعتوں کے درمیان صلح کروائے گا“ تو حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حمایت کر دی تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امامت ثابت ہو گئی۔ اس لیے اس سال کو جماعت کا سال کہا گیا کیونکہ ساری امت سے اختلاف اٹھ گیا اور سب نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اتباع کی کیونکہ حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی تیسرا خلافت کا دعویدار نہیں تھا اور حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلافت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کر چکے تھے اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کا ذکر فرمانِ نبی ﷺ میں موجود ہے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یا دیگر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی گستاخی کرنے والے کی سزا احادیثِ رسول اللہ ﷺ میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی گستاخی کی سزا کا ذکر موجود ہے۔ 1: عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: مَنْ سَبَّ نَبِيًّا قُتِلَ، وَمَنْ سَبَّ أَصْحَابَهُ جُلِدَ. (الصارم المسلول علی شاتم الرسول ﷺ، باب ذکر الاحادیث الدالۃ علی کفر شاتم الرسول ﷺ، الحدیث الرابع، صفحہ: 126، دار الکتب العربی بیروت) حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی نبی علیہ السلام کو گالی دی اسے قتل کیا جائے گا۔ اور جس نے رسول اللہ ﷺ کے کسی صحابی رضی اللہ عنہ کو گالی دی اسے کوڑے مارے جائیں گے۔ 2: امام شمس الدین ذہبی متوفی 748ھ نے اپنی کتاب الکبائر میں صفحہ 280 پر لکھا ہے: الْكَبِيرَةُ السَّبْعُونَ: سَبُّ أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رِضْوَانُ اللهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ. (الکبائر للذہبی، الکبیرۃ السبعون: سب احد من الصحابۃ، صفحہ: 280، مکتبۃ الصفاء قاہرہ) سترواں کبیرہ گناہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے کسی ایک کو بھی گالی دینا۔ اسی کے ساتھ امام ذہبی نے یہ حدیث لکھی ہے کہ: مَنْ سَبَّ أَصْحَابِي فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ. جس نے میرے اصحاب میں سے کسی کو گالی دی تو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ (الکبائر للذہبی، الکبیرۃ السبعون: سب احد من الصحابۃ، صفحہ: 280، مکتبۃ الصفاء قاہرہ) 3: حضرت امام قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی متوفی 544ھ اپنی مشہور زمانہ کتاب شفاء شریف میں فرماتے ہیں: قَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: مَنْ شَتَمَ النَّبِيَّ ﷺ قُتِلَ وَمَنْ شَتَمَ أَصْحَابَهُ أُدِّبَ، وَقَالَ أَيْضًا مَنْ شَتَمَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ أَبَا بَكْرٍ أَوْ عُمَرَ أَوْ عُثْمَانَ أَوْ مُعَاوِيَةَ أَوْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَإِنْ قَالَ كَانُوا عَلَى ضَلَالٍ وَكُفْرٍ قُتِلَ، وَإِنْ شَتَمَهُمْ بِغَيْرِ هَذَا مِنْ مَشَاتِمِ النَّاسِ نُكِّلَ نَكَالًا شَدِيدًا. (کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ، جلد: 2، باب الثالث: فی حکم من سب اللہ الخ، فصل العاشر: الحکم فی سب آل بیت النبی ﷺ الخ، صفحہ: 599، دار الفکر بیروت) جس شخص نے رسول اللہ ﷺ کو معاذ اللہ گالی دی، اسے قتل کیا جائے گا۔ اور جس نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو معاذ اللہ گالی دی اس کو کوڑے مارے جائیں گے۔ اور یہ بھی کہا کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کے کسی صحابی کو معاذ اللہ گالی دی، خواہ وہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہوں، یا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہوں، یا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہوں، یا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوں، یا حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ہوں، اگر اس گالی دینے والے نے یوں گالی دی کہ یہ اصحاب رضی اللہ عنہم معاذ اللہ گمراہی پر تھے یا کفر پر تھے تو پھر گالی دینے والے کو قتل کیا جائے گا۔ اور اگر اس نے ضلال اور کفر کے علاوہ گالی دی جس طرح عام لوگ آپس میں ایک دوسرے کو گالی دیتے ہیں تو پھر اسے شدید سزا سے نشانِ عبرت بنایا جائے گا۔ 4: جو شخص کسی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معاذ اللہ گمراہ یا کافر کہے، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی سزا قتل کیوں قرار دی، اس کی وجہ شفاء شریف کی شرح میں امام شہاب الدین خفاجی متوفی 1069ھ لکھتے ہیں: فَإِنَّ فِيهِ تَكْذِيبًا لِرَسُولِ اللهِ ﷺ وَلِجَمِيعِ الْأُمَّةِ. (نسیم الریاض، جلد: 6، صفحہ: 433، دار الکتب العلمیہ بیروت) کیونکہ کسی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گمراہی پر یا کفر پر کہنے سے اللہ تعالیٰ کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اور ساری امت کو جھٹلانا لازم آتا ہے۔ 5: حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے اس فتویٰ کی، جس میں انہوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو گمراہ کہنے والے کی سزا قتل بیان کی ہے، کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا: لِتَكْذِيبِهِ الْقُرْآنَ فِيمَا أَثْنَى اللهُ عَلَيْهِمْ لِقَوْلِهِ تَعَالَى ”رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ“، وَحَدِيثِ: ”أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ“، وَحَدِيثِ: ”لَوْ أَنْفَقَ أَحَدُكُمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ“. (شرح ملا علی قاری علی شرح الشفاء، جلد: 2، الباب الثالث، فصل: فی حکم من سب اللہ تعالیٰ وملائکتہ الخ، صفحہ: 552، دار الکتب العلمیہ بیروت) ایسے گستاخ کی قتل کی سزا اس لیے ہے کہ اس نے معاذ اللہ قرآن کو جھٹلایا ہے جو قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اس فرمان میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی تعریف کی ہے: رَضِیَ اللہُ عَنْھُمْ (اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا) ایسے ہی اس شخص نے اس حدیث: أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ (میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں، ان میں سے تم جس کی بھی اقتداء کرو گے ہدایت پاؤ گے) اور حدیث شریف: لَوْ أَنْفَقَ أَحَدُكُمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ (اگر تم غیر صحابہ میں سے کوئی احد پہاڑ جتنا سونا اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو وہ صحابہ میں سے کسی ایک کے اللہ کی راہ میں ایک مد (چوتھائی صاع) خرچ کرنے تک یا نصف مد خرچ کرنے تک نہیں پہنچتا) کو جھٹلایا ہے۔ 6: امام عبد العزیز پروہاروی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گستاخ کی سزا بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: وَسَبَّهُ رَجُلٌ عِنْدَ خَلِيفَةٍ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَجَلَدَهُ. (المنبر اس شرح عقائد، باب فی اختلف الفقہاء فی حکم من سب الصحابہ، صفحہ: 550-551، شاہ عبد الحق اکیڈمی بندیال شریف) 7: حضرت قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے جس فتویٰ کا ذکر کیا ہے، اسی کو مکتوبات شریف میں حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی فاروقی بھی نقل فرماتے ہیں: امام مالک کہ از تابعین است و معاصر او و اعلمِ علماءِ مدینہ، شاتمِ معاویہ و عمرو بن العاص را بقتل حکم کردہ است۔ (مکتوبات امام ربانی، جلد: 1، حصہ چہارم: در المعرفت، مکتوب نمبر: 251، صفحہ: 59، مکتبہ احمدیہ مجدد یہ کوئٹہ) امام مالک جو کہ تابعین میں سے ہیں اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے ہم عصر ہیں اور علماءِ مدینہ میں سب سے زیادہ عالم ہیں، آپ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معاذ اللہ گالی دینے والے شخص کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ 8: امام تقی الدین سبکی گستاخِ صحابہ رضی اللہ عنہم کی سزا کے بارے میں لکھتے ہیں: أَمَّا سَائِرُ الصَّحَابَةِ: فَمَنْ سَبَّهُمْ جُلِدَ بِاتِّفَاقِ الْعُلَمَاءِ. (السیف المسلول علی من سب الرسول ﷺ، الباب الثالث، الفصل الاول فی المسلمین، فی سب سائر الصحابۃ رضی اللہ عنہم، صفحہ: 420، دار الفتح عمان) جہاں تک تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا معاملہ ہے تو جس نے ان میں سے کسی کو گالی دی تو تمام علماء کا اتفاق ہے کہ اس کو کوڑے مارے جائیں۔ 9: ایسے ہی امام ہاشم ٹھٹھوی نے بھی ذکر کیا ہے۔ ملاحظہ ہو: (السیف الجلی علی ساب النبی ﷺ، باب فی حکم من سب سائر الانبیاء والملائکۃ، فصل: اما سائر الصحابہ، صفحہ: 220، دار الضیاء کویت) 10: امام تقی الدین سبکی متوفی 796ھ کہتے ہیں: وَلَا يَجُوزُ لِلسُّلْطَانِ أَنْ يَعْفُوَ عَنْ أَحَدٍ وَقَعَ فِي أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ، بَلْ يُعَاقِبُهُ وَيَسْتَتِيبُهُ، فَإِنْ تَابَ قُبِلَ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَتُبْ أَعَادَ عَلَيْهِ الْعُقُوبَةَ وَخَلَّى عَلَيْهِ الْحَبْسَ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يَرْجِعَ. (السیف المسلول علی من سب الرسول ﷺ، صفحہ: 422، باب فی سب سائر الصحابہ رضی اللہ عنہم، دار الفتح للنشر اردن) بادشاہ کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی ایسے شخص کو معاف کرے جس نے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک کی بھی توہین کی ہو بلکہ وہ اسے سزا دے اور اسے سزا دے کر توبہ کروائے۔ اگر وہ گستاخ ان گستاخیوں سے توبہ کرے تو اسے اس سے قبول کر لے۔ اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو بادشاہ اسے دوبارہ سزا دے اور اسے دائمی طور پر قید میں ڈالے یہاں تک کہ یا تو وہ مر جائے یا رجوع کر لے۔ نوٹ: یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ہمارے ملک میں توہینِ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے واقعات جو کثرت سے ہو رہے ہیں، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر مقامات پر گستاخوں کو حکمران کی سزا کے بغیر ہی معاف کر دیا جاتا ہے۔ گستاخ خان صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا اُلٹا تقیہ باز ہے۔ انہیں معافی مانگنے میں کوئی دیر نہیں لگتی لیکن جب وہ سزا سے بچ جاتے ہیں تو وہ دوبارہ یہی بکو اس کو شروع کر دیتے ہیں۔ جب بادشاہ کے لیے سزا کے سوا اس کو معاف کرنا جائز نہیں تو کسی محلے یا تنظیم کے لوگ اسے کیسے معاف کر سکتے ہیں؟ 11: حضرت امام تقی الدین سبکی رحمۃ اللہ علیہ اپنا فتویٰ ذکر کرتے ہیں: أَمَّا مَنْ سَبَّ أَحَدًا مِنَ الصَّحَابَةِ؛ فَهُوَ فَاسِقٌ وَمُبْتَدِعٌ بِالْإِجْمَاعِ، إِلَّا إِذَا اعْتَقَدَ أَنَّهُ مُبَاحٌ أَوْ يَتَرَتَّبُ عَلَيْهِ ثَوَابٌ كَمَا عَلَيْهِ بَعْضُ الشِّيعَةِ. أَوِ اعْتَقَدَ كُفْرَ الصَّحَابَةِ. فَإِنَّهُ كَافِرٌ بِالْإِجْمَاعِ. (السیف المسلول علی من سب الرسول ﷺ، باب ثانی: حکم ساب احد الصحابۃ رضی اللہ عنہم، صفحہ: دار الکتب العلمیہ بیروت) بہر حال جس شخص نے بھی صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے کسی بھی صحابی رضی اللہ عنہ کو گالی دی، وہ بالاجماع فاسق اور بدعقیدہ ہے۔ لیکن اگر وہ بدبخت یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے کسی کو گالی دینا جائز ہے یا اس کام سے ثواب ملتا ہے جس طرح کہ بعض روافض کا نظریہ ہے یا وہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے کسی کے کفر کا عقیدہ رکھے تو ایسا شخص بالاجماع کافر ہے۔ خلاصہ فتویٰ چونکہ اقبال شاہ نامی شخص کا کیس زیرِ سماعت ہے تو وہ وکلاء اور ججز کی شرعی رہنمائی کے لیے فتویٰ لکھا گیا ہے۔ اقبال شاہ نامی شخص نے جن آیات سے حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف جھوٹا استدلال کیا، وہ آیات حقیقت میں جن کے بارے میں نازل ہوئی تھیں، جن الفاظ سے ان کی مذمت کی گئی، اقبال شاہ نے ان سب الزامات کو حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر فٹ کیا۔ بعض الفاظ اس نے اپنی طرف سے واضح طور پر بولے اور بعض الفاظ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر وہ آیات فٹ کرنے کی وجہ سے اس کو لازم سے آئے۔ ضروری تنبیہ: شفاء شریف کی روشنی میں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو گالی دینے کی دو قسمیں ہیں: 1: کسی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گمراہ یا کافر سمجھنا۔ 2: کسی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایسی گالی دینا جیسے آپس میں جھگڑتے ہوئے لوگ ایک دوسرے کو گالی دیتے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو پہلی قسم کی گالی دینے والے کی سزا موت ہے۔ جبکہ دوسری قسم کی گالی دینے والے کی سزا کوڑے ہیں۔ جو اسی سے کم جتنے بھی حاکم تعزیر کے طور پر لگا دے۔ اقبال شاہ نامی شخص کے کلپ کے اندر جو اس کی گستاخانہ اور مجرمانہ گفتگو ہے، فتویٰ کے آغاز میں اس کا تفصیلاً ذکر ہو چکا ہے۔ اس کے بہت سے جرائم ہیں جن پر اسے علیحدہ علیحدہ سزا ملنی چاہیے۔ لیکن حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لحاظ سے معاذ اللہ ثم معاذ اللہ، ”لعنتی، فسادی، جہنمی، عہدِ خداوندی کو توڑنے والا، قرآن چھپانے والا اور ان کی خلافت کو بدمعاشی کی حکومت کہنے والا“ اور دیگر ہزاروں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو فسادی اور لعنتی کہنے والا یہ شخص پہلی قسم کی گالی کا مرتکب ہوا جس کی سزا شفاء شریف اور مکتوبات شریف وغیرہ میں سزائے موت بیان کی گئی ہے۔ اور اس کی گالیاں جس نوعیت کی ہیں، وہ قرآن کے بطلان اور اسلام کے بطلان اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ تک پہنچنے والا معاملہ ہے، جیسا کہ پہلے تفصیل بیان کی جا چکی ہے۔ چنانچہ سزائے موت سے کم اس کی سزا نہیں ہے۔ اگر کوئی دھاندلی کرتے ہوئے اس کی گالیوں کو دوسری قسم کی گالیوں میں شمار کرتا ہے تو پھر بھی مذکورہ فتاویٰ کی روشنی میں اسے کوڑوں کی سزا ضرور ملے گی، وہ بھی اس شرط پر کہ کوڑے لگنے کے بعد وہ ان گالیوں سے حکمران کے سامنے صدقِ دل سے توبہ کرے ورنہ اسے تاحیات قید میں ڈالا جائے۔ ھٰذَا مَا عِنْدِي وَاللہُ تَعَالیٰ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب دستخط: محمد اشرف آصف جلالی مفتی ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی پرنسپل مرکز صراطِ مستقیم تاج باغ فیز III لاہور

پی ڈی ایف دستاویز