Tehreek Sirate Mustaqeem Pakistan

TSM (پاکستان)

فتاویٰ کی فہرست
عقائدنمایاں

مرزا محمد علی جہلمی کے مبینہ طور پر قرآن مجید میں الحاد اور تحریف معنوی کے مرتکب ہونے پر فرقۂ اسلامی کے عظیم ماہر ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی کا فتویٰ

October 30, 2025
پی ڈی ایف پڑھیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ خاتم النبیین، سید الرسل و خاتم المعصومین و علیٰ آلہ و اصحابہ اجمعین مرزا محمد علی جہلمی کے ایک کلپ کے حوالے سے مختلف لوگوں نے مجھ سے استفتاء کیا کہ مرزا جہلمی کے ان الفاظ پر حکمِ شرع کیا ہے؟ (نقل کفر کفر نباشد) کلپ کے الفاظ یہ تھے: ”لیکن قرآن مجھے اجازت دے رہا ہے کہ میں اس کی عورت کے ساتھ شادی کر سکتا ہوں اگر وہ کسی chiristian کی بیٹی ہے سورہ مائدہ کی آیت نمبر 5 کس عورت کے ساتھ؟ جو میرے نبی کو د۔ ج۔ ا۔ ل سمجھتی ہے“ مرزا جہلمی نے یہاں تحریف معنوی کا ارتکاب کیا ہے۔ کیونکہ اس نے جو الفاظ آیت میں نہیں ہیں، اپنی طرف سے آیت کے ترجمے میں شامل کیے ہیں۔ جس سے اس نے جان بوجھ کے حکمِ خداوندی میں تبدیلی کی ہے۔ آیتِ کریمہ میں اہلِ کتاب کی جن عورتوں سے شادی کی اجازت دی ہے ان کے لیے لفظ ”محصنات“ استعمال کیا ہے۔ مرزا جہلمی نے سورہ مائدہ کی جس آیت کا حوالہ دیا ہے، وہ ملاحظہ کیجیے: وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ. (سورۃ المائدہ: 5) آج تمہارے لیے حلال ہوئیں پارسا عورتیں ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی۔ کسی لغت، کسی حدیثِ ماثور یا کسی بھی قاعدے اور قانون کے مطابق محصنات کے معنی میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ وہ عورت جو میرے نبی ﷺ کو د۔ ج۔ ا۔ ل سمجھتی ہے۔ جب لفظ محصنات یا آیت کا دوسرا لفظ اس جملے پر دلالت نہیں کرتا تو یہ مرزا کی قرآن میں خیانت اور رب ذوالجلال پر اتہام ہے۔ اور معاذ اللہ قرآنی تعلیمات کو بدلنے کی ایک مبینہ کاروائی ہے۔ محصنات کا معنی ہیں پاک دامن عورتیں، وہ اہلِ کتاب عورتیں جو کہ رسولِ اکرم ﷺ کو معاذ اللہ د۔ ج۔ ا۔ ل کہہ کر حد درجہ کی توہین کرنے والی ہوں، وہ ہرگز یہاں محصنات سے مراد نہیں ہیں۔ اور وہ مراد لینا قرآن مجید میں تحریف معنوی ہے۔ یہ بات احادیث سے ثابت ہے کہ اگر کسی کرسچن یا یہودن نے جو کسی مسلمان کے نکاح میں تھی، اگر اس نے چہ نکاح رسالت ﷺ کی تو اگر چہ نکاح پہلے ہو چکا تھا تو ان کے شوہر جو صحابہ رضی اللہ عنہم تھے، انہوں نے انہیں اپنی بیویاں رکھنا پسند نہیں کیا بلکہ انہیں توہینِ رسالت ﷺ کی وجہ سے انہیں خود ہی قتل کر دیا اور سرور کونین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ان سے کوئی بھی مواخذہ نہیں فرمایا۔ چنانچہ ان احادیث میں آپ اس حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں۔ 1: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ وَلَدٍ لِرَجُلٍ، كَانَ لَهُ مِنْهَا ابْنَانِ مِثْلُ اللُّؤْلُؤَتَيْنِ، وَكَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِيَّ ﷺ، فَيَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي، وَيَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ذَكَرَتِ النَّبِيَّ ﷺ، فَمَا صَبَرَ أَنْ قَامَ إِلَى مِغْوَلٍ فَوَضَعَهُ فِي بَطْنِهَا، ثُمَّ اتَّكَأَ عَلَيْهَا حَتَّى أَنْفَذَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: أَشْهَدُ أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ. (المستدرک للحاکم، جلد: 5، کتاب الحدود، باب حکایۃ ام ولد لرجل، حدیث: 8108، صفحہ: 506، دار المعرفہ بیروت) حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: ایک شخص کی ایک ام ولد تھی جس سے اس کے ہیروں جیسے دو بیٹے تھے۔ وہ ام ولد رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیتی تھی تو وہ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو منع کرتے تھے تو وہ نہیں رکتی تھی۔ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسے جھڑکیاں دیتے تھے، مگر اسے جھڑکیوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ جب ایک رات اس نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کچھ بولا تو اس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صبر نہ ہوا یہاں تک کہ اس کے پیٹ میں خنجر رکھا اور خنجر کے اوپر اپنا وزن ڈالا یہاں تک کہ وہ خنجر اس کے جسم سے پار گزر گیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اس عورت کا خون رائیگاں چلا گیا۔ یعنی جس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بچوں کی ماں کی جو کہ اہلِ کتاب میں سے تھی توہینِ رسالت ﷺ پر اسے قتل کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس صحابی پر کوئی مواخذہ نہیں فرمایا۔ توہینِ رسالت ﷺ وہ جرم ہے جس کی بنیاد پر کوئی کتابیہ ہو، یا مسلمہ ہو، اس کے ساتھ توہین سے پہلے کیا گیا نکاح تو کتابیہ باقی نہیں رہتا تو کتابیہ جو اتنی بڑی توہین کرنے والی ہو یعنی رسول اللہ ﷺ کے بارے میں معاذ اللہ لفظ د۔ ج۔ ا۔ ل بولنے والی ہو تو از سرِ نو اس سے نکاح کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے؟ اور اس اجازت کی نسبت بھی مرزا جہلمی نہایت ڈھٹائی کے ساتھ اللہ عز و جل کی طرف کر رہا ہے۔ یہی حدیث جو پہلے ذکر کی گئی تفصیل کے ساتھ سنن ابی داؤد میں بھی موجود ہے۔ ملاحظہ ہو: 2: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَعْمَى كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَعُ فِيهِ فَيَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي وَيَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ جَعَلَتْ تَقَعُ فِي النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَشْتُمُهُ، فَأَخَذَ الْمِغْوَلَ فَوَضَعَهُ فِي بَطْنِهَا وَاتَّكَأَ عَلَيْهَا فَقَتَلَهَا فَوَقَعَ بَيْنَ رِجْلَيْهَا طِفْلٌ، فَلَطَّخَتْ مَا هُنَاكَ بِالدَّمِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَ النَّاسَ فَقَالَ: أَنْشُدُ اللهَ رَجُلًا فَعَلَ مَا فَعَلَ لِي عَلَيْهِ حَقٌّ إِلَّا قَامَ فَقَامَ الْأَعْمَى يَتَخَطَّى النَّاسَ وَهُوَ يَتَزَلْزَلُ حَتَّى قَعَدَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا صَاحِبُهَا كَانَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ فَأَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي وَأَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ وَلِي مِنْهَا ابْنَانِ مِثْلُ اللُّؤْلُؤَتَيْنِ وَكَانَتْ بِي رَفِيقَةً فَلَمَّا كَانَ الْبَارِحَةَ جَعَلَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ فَأَخَذْتُ الْمِغْوَلَ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا وَاتَّكَأْتُ عَلَيْهَا حَتَّى قَتَلْتُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ. (سنن ابی داؤد، جلد: 3، کتاب الحدود، باب الحکم فیمن سب النبی ﷺ، حدیث: 4361، صفحہ: 132، دار الکتب العلمیہ بیروت) 3: عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِيَّ ﷺ وَتَقَعُ فِيهِ، فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّى مَاتَتْ، فَأَبْطَلَ رَسُولُ اللهِ ﷺ دَمَهَا. (سنن ابی داؤد، جلد: 3، کتاب الحدود، باب الحکم فیمن سب النبی ﷺ، حدیث: 4362، صفحہ: 133، دار الکتب العلمیہ بیروت) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودیہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دیتی تھی اور آپ ﷺ کے بارے میں بکواس کرتی تھی تو ایک شخص نے اس کا گلا دبایا یہاں تک کہ وہ مر گئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے خون کو باطل قرار دیا۔ ضروری وضاحت اہلِ کتاب کی عورت یعنی کتابیہ سے نکاح، یہ امت کا اجماعی مذہب نہیں ہے بلکہ جمہور کا مذہب ہے۔ اہلِ کتاب کی عورت کے ساتھ نکاح کے مسئلہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اور بعد کے دیگر کئی فقہاءِ امت نے اختلاف کیا ہے۔ اور اس آیت سے مراد انہوں نے وہ عورتیں لی ہیں جو اہلِ کتاب کی عورتوں میں سے مسلمان ہو جائیں۔ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اپنے مؤقف پر قرآنی آیت سے دلائل دیے ہیں تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امت میں اہلِ کتاب کی عورت سے نکاح کرنا نفسِ مسئلہ کے لحاظ سے اختلافی ہے۔ چہ جائیکہ اس عورت کے اہلِ کتاب ہونے کی خامی کے ساتھ ساتھ یہ خامی بھی ہو کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی مذکورہ لفظ بول کے حد درجہ توہین بھی کرتی ہو۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح کے جائز نہ ہونے کا جو مؤقف ہے اس مؤقف کے قائلین علماء کرام نے سورہ مائدہ کی آیت نمبر 5 کے جواب میں کئی دلائل پیش کیے ہیں۔ وہ ہرگز آیت کے منکر نہیں لیکن اس آیت سے اہلِ کتاب کی عورت کے ساتھ نکاح کے جائز ہونے کو ثابت نہیں مانتے۔ انہوں نے اپنے مؤقف پر جو دلائل دیے ہیں، امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر کبیر میں ان کو ذکر کیا ہے: 1: یہاں اہلِ کتاب سے مراد وہ ہیں جو ایمان لے آئے تو ان کی عورتوں کے لحاظ سے حکم بیان کرنے کی ضرورت تھی جو اس آیت میں بیان کیا گیا تو یہاں نصرانیہ یا یہودیہ سے نکاح کی بات نہیں بلکہ مسلمہ سے نکاح کی بات ہے جو پہلے اہلِ کتاب میں سے تھی۔ 2: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما والے طبقے کی دوسری دلیل یہ ہے کہ کتابیہ کے ساتھ نکاح کی اجازت اس وقت تھی جب مسلمان عورتوں کی قلت تھی اور یہ حکم رخصت پر مبنی تھا تو جب مسلمان عورتوں کی کثرت ہو گئی تو یہ رخصت ختم ہو گئی۔ 3: وہ قرآنی آیات جو مسلمانوں پر کفار سے دور رہنے کو فرض کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: يٰٓأَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَ عَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ. (سورۃ الممتحنہ: 1) اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ يٰٓأَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِّنْ دُونِكُمْ. (سورۃ آل عمران: 118) اے ایمان والو غیروں کو اپنا رازدار نہ بناؤ۔ ان آیات سے بھی کتابیہ عورت سے نکاح کا عدمِ جواز ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے کہ جب ایک مسلمان مرد کی اہلِ کتاب کی کسی عورت کے ساتھ شادی ہو جائے تو ہو سکتا ہے کہ مسلمان کی اس بیوی کے ساتھ محبت قوی ہو جائے تو ہو سکتا ہے کہ یہ محبت اس مسلمان شوہر کے اس کتابیہ کے دین کی طرف مائل ہونے کا سبب بنے۔ اگر اللہ تعالیٰ فضل کرے اور کتابیہ سے نکاح کرنے والے مسلمان خاوند کا ایمان اور عقیدہ خراب نہ ہو تو آگے یہ خطرہ ہے کہ جب اس عورت سے بچہ پیدا ہو گا تو یقیناً اس بچے کا حکم یہ ہو گا کہ وہ مسلمان ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ بچہ اپنی ماں کے دین کی طرف مائل ہو جائے تو یہ سب باتیں خواہ مخواہ نفس کو نقصان میں ڈالنے والی ہیں۔ 4: اسی سورت مائدہ کے آیت نمبر 5 کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: وَ مَنْ يَّكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ ۖ وَ هُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِينَ. (سورۃ مائدہ: 5) اور جو مسلمان سے کافر ہوا اس کا کیا دھرا سب اکارت گیا اور وہ آخرت میں زیاں کار ہے۔ یہ آیت کا آخری حصہ کافرہ کے ساتھ شادی کرنے سے بہت زیادہ نفرت دلا رہا ہے کہ کہیں کوئی مسلمان ایسی شادی کے نتیجے میں اگر کافرہ ہو گیا تو یہ کتنا بڑا خسارہ ہے۔ تو اگر سورہ مائدہ کی آیت نمبر 5 (وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ) میں کتابیہ کے ساتھ شادی کرنے کا جواز ہوتا تو اس آیت کے آخری حصے کا پہلے حصے کے ساتھ ٹکراؤ پیدا ہو جائے گا اور قرآن میں تناقض نہیں ہو سکتا تو وہ تب ہی نہیں ہو سکتا کہ جب یہاں سورہ مائدہ کی آیت نمبر 5 میں جو محصنات ہیں اس سے مراد یہ لیا جائے کہ اہلِ کتاب میں سے جو مسلمان ہو گئیں ان کی مسلمان عورتوں کے ساتھ نکاح جائز ہے۔ خود حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اپنی دلیل یہ پیش کرتے تھے: وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ. (سورۃ البقرہ: 221) اور شرک والی عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ مسلمان نہ ہو جائیں۔ اور فرماتے تھے: لَا أَعْلَمُ شِرْكًا أَعْظَمَ مِنْ قَوْلِهَا: إِنَّ رَبَّهَا عِيسَى. کہ میرے نزدیک اس سے بڑا کوئی شرک نہیں ہے کہ جو ایک کتابیہ عورت کہتی ہے کہ اس کے رب عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ (معاذ اللہ) (تفسیر کبیر، جلد: 6، جزو: 1، سورۃ مائدہ: 5، صفحہ: 150، دار الفکر بیروت) اس ساری بحث کا مطلب یہ ہے کہ کتابیہ عورت کے ساتھ شادی یہ امتِ مسلمہ کا اتفاقی مذہب نہیں ہے۔ خصوصاً حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اور بعض دوسرے حضرات نے دلائل کی وجہ سے اس کا انکار کیا۔ یعنی کتابیہ کے کافر اور مشرک ہونے کی وجہ سے۔ چنانچہ کتابیہ سے نکاح کو سورہ مائدہ کی آیت نمبر 5 کی روشنی میں جائز سمجھنے والے اس عورت کے کافرہ ہونے کے باوجود اہلِ کتاب ہونے کی وجہ سے نکاح کو جائز سمجھتے ہیں۔ لیکن مرزا جہلمی اس کتابیہ عورت کے کفر و شرک کے ہوتے ہوئے اپنی طرف سے ایک نہایت گھٹیا شرط کا ساتھ اضافہ کر رہا ہے کہ وہ عورت رسولِ اکرم ﷺ کے بارے میں د۔ ج۔ ا۔ ل جیسے گستاخانہ ترین لفظ کا بکو اس کرتی ہو تو پھر بھی اس کے ساتھ نکاح جائز ہے اور ظلم کی حد یہ ہے کہ وہ اپنی طرف سے کیے گئے اس اضافے کو وہ اپنی رائے نہیں کہہ رہا بلکہ اسے حکمِ خداوندی کہہ رہا ہے جو یقیناً اور قطعاً حکمِ خداوندی نہیں ہے۔ جبکہ ایسی بکو اس تو معاذ اللہ کوئی مسلمان عورت بھی رسولِ اکرم ﷺ کے بارے میں کرے تو مسلمان مرد سے اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا کیونکہ وہ اس توہین کی وجہ سے کافرہ ہو جائے گی۔ خلاصہ: یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 5 میں اہلِ کتاب کی جن عورتوں سے شادی کو جائز قرار دیا گیا، وہاں ہرگز مرزا جہلمی کی بات ”لیکن قرآن مجھے اجازت دے رہا ہے کہ میں اس کی عورت کے ساتھ شادی کر سکتا ہوں اگر وہ کسی chiristian کی بیٹی ہے سورہ مائدہ کی آیت نمبر 5 کس عورت کے ساتھ؟ جو میرے نبی کو د۔ ج۔ ا۔ ل سمجھتی ہے“ کا کہیں یہ ذکر نہیں ہے بلکہ یہ مرزا جہلمی نے قرآن میں معنوی تحریف کی ہے اور قرآن میں الحاد کیا ہے اور اپنی رائے کو اللہ تعالیٰ کے فرمان میں داخل کیا ہے اور اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹا الزام لگایا ہے۔ قرآن میں تحریف (معنوی) اور الحاد کرنے والے کا قرآن و سنت میں حکم اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: إِنَّ الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي اٰيَاتِنَا لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا. (سورۃ فصلت: 40) بیشک جو لوگ ہماری آیتوں میں سیدھی راہ سے ہٹتے ہیں وہ ہم پر پوشیدہ نہیں ہیں۔ ”لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا“ میں اللہ تعالیٰ یہ وعید سنا رہا ہے کہ جو بندہ بھی جس زمانے یا جس علاقے میں ہماری آیات کے اندر الحاد کرے گا ہم اس سے آگاہ ہیں اور اسے آخرت میں ضرور عذاب ملے گا۔ اب یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آیات کے اندر الحاد کیا ہوتا ہے؟ مختصر یہ ہے کہ تحریف معنوی اور آیت کے صحیح مطلب میں جان بوجھ کے بگاڑ پیدا کرنا الحاد ہے۔ 1: ابن جریر طبری تفسیر ماثور میں سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے الحاد فی الآیات کی تفسیر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: هُوَ أَنْ يُوضَعَ الْكَلَامُ عَلَى غَيْرِ مَوْضِعِهِ. (جامع البیان عن تأویل القرآن، جلد: 12، سورۃ فصلت: 40، حدیث: 23595، صفحہ: 154، دار الفکر بیروت) حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا: کلام کو وہاں رکھا جائے جہاں اس کی جگہ نہیں ہے۔ یعنی جس بارے میں کلام کو نازل کیا گیا ہے اس سے ہٹ کر اس کا معنی لینا۔ 2: اس آیت کی تفسیر میں علامہ سید محمود آلوسی بغدادی متوفی 127ھ فرماتے ہیں: {إِنَّ الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي آيَاتِنَا} يَنْحَرِفُونَ فِي تَأْوِيلِ آيَاتِ الْقُرْآنِ عَنْ جِهَةِ الصِّحَّةِ وَالِاسْتِقَامَةِ فَيَحْمِلُونَهَا عَلَى الْمَحَامِلِ الْبَاطِلَةِ، وَهُوَ مُرَادُ ابْنِ عَبَّاسٍ بِقَوْلِهِ: يَضَعُونَ الْكَلَامَ فِي غَيْرِ مَوْضِعِهِ. (تفسیر روح المعانی، جلد: 13، سورۃ فصلت: 40، صفحہ: 194-195، دار الفکر بیروت) خلاصہ: آیات میں الحاد کرنے والے وہ لوگ ہیں جو صحیح اور مستقیم معانی سے آیاتِ قرآن کی تاویل میں انحراف کرتے ہیں اور انہیں باطل معانی پر محمول کرتے ہیں/ یہی مراد ہے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے اس فرمان کی کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا وہ مطلب نکالتے ہیں کہ جو اس کا مطلب نہیں ہے۔ یہ الحاد ہے۔ 3: اس آیت کی تفسیر میں علامہ ابو العباس بن احمد بن محمد ابن عجیبہ الحسنی متوفی 1224ھ فرماتے ہیں: يَلْحَدُونَ فِي آيَاتِنَا التَّنْزِيلِيَّةِ، بِالطَّعْنِ فِيهَا، وَتَحْرِيفِهَا، بِحَمْلِهَا عَلَى الْمَحَامِلِ الْبَاطِلَةِ. (تفسیر البحر المدید، جلد: 6، سورۃ فصلت: 40، صفحہ: 349، دار الکتب العلمیہ بیروت) آیات میں الحاد یہ ہے کہ انہیں حق سے ہٹانا ان میں طعن کرے، ان میں تحریف کرے اور انہیں باطل معانی پر محمول کرے۔ 4: اس آیت کی تفسیر میں امام بیضاوی فرماتے ہیں: {إِنَّ الَّذِينَ يُلْحِدُونَ} يَمِيلُونَ عَنِ الِاسْتِقَامَةِ {فِي آيَاتِنَا} بِالطَّعْنِ وَالتَّحْرِيفِ وَالتَّأْوِيلِ الْبَاطِلِ وَالْإِلْغَاءِ فِيهَا، {لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا} فَنُجَازِيهِمْ عَلَى إِلْحَادِهِمْ. (تفسیر بیضاوی المسمی بانوار التنزیل واسرار التاویل مع حاشیۃ سیوطی، جلد: 11، سورۃ فصلت: 40، صفحہ: 81، دار اللباب بیروت) خلاصہ: بے شک وہ لوگ جو ہماری آیات میں طعن کرے، تحریف کرے، باطل تاویل کرے اور لغو بات داخل کرے اور آیت کے اس صحیح معنی سے ہٹاتے ہیں۔ وہ ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں، ہم ان کو ان کے اس الحاد پر سزا دیں گے۔ قرآن میں الحاد اور تحریف کرنے والوں کی احادیثِ رسول ﷺ میں مذمت 1: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ. (سنن ترمذی، جلد: 4، کتاب تفسیر القرآن، باب ما جاء فی الذی یفسر القرآن برایہ، حدیث: 2951، صفحہ: 45، دار الکتب العلمیہ بیروت) جس نے قرآن مجید میں اپنی رائے کو دخل دیا، وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنا لے۔ 2: حضرت جندب بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فَقَدْ أَخْطَأَ. (سنن ترمذی، جلد: 4، کتاب تفسیر القرآن، باب ما جاء فی الذی یفسر القرآن برایہ، حدیث: 2952، صفحہ: 45، دار الکتب العلمیہ بیروت) جس نے قرآن میں اپنی رائے سے اضافہ کیا اگر چہ اس نے صحیح بات کی ہو پھر بھی اس نے غلطی کی۔ 3: عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: أَكْثَرُ مَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي: رَجُلٌ يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ يَضَعُهُ عَلَى غَيْرِ مَوَاضِعِهِ. (المعجم الاوسط للطبرانی، جلد: 1، باب من اسمہ احمد، حدیث: 1876، صفحہ: 505، دار الفکر للنشر والتوزیع) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے اپنے بعد سب سے زیادہ جس بندے کا اپنی امت کے بارے میں خطرہ ہے، وہ ایسا بندہ ہے جو قرآن کی ایسی تاویل کرے گا جو کہ قرآن کے بارے میں اتر ا نہیں۔ 4: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمان ہے: إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ كَلَامُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَضَعُوهُ عَلَى مَوَاضِعِهِ، وَلَا تَتَّبِعُوا فِيهِ أَهْوَاءَكُمْ. (کتاب الزہد لامام احمد بن حنبل، باب زہد یونس علیہ السلام، حدیث: 191، صفحہ: 46، دار الریان للتراث القاہرہ) یہ قرآن اللہ عز و جل کا کلام ہے، اسے اسی بارے میں بیان کرو جس بارے میں اللہ تعالیٰ نے اسے اتارا ہے۔ اور اس میں اپنی خواہشات کو داخل نہ کرو۔ ان تمام آیات اور احادیث سے مرزا جہلمی کی مذمت اور جہنمی ہونا واضح ہے کہ اس نے سورہ مائدہ کی آیت نمبر 5 میں اس بات کا اضافہ کیا اور اسے آیت کے مطلب میں داخل کیا کہ اہلِ کتاب کی جو عورت میرے نبی ﷺ کو د۔ ج۔ ا۔ ل سمجھتی ہے اللہ مجھے اس عورت کے ساتھ شادی کی بھی اجازت دے رہا ہے (معاذ اللہ)۔ یہ واضح طور پر تحریف معنوی اور الحاد پر ہے جس کے نتیجے میں بندہ جہنمی بن جاتا ہے۔ محققین اسلام کے فیصلے 1: علامہ قاضی عیاض مالکی شافعی متوفی 544ھ کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ میں فرماتے ہیں: وَاعْلَمْ أَنَّ مَنِ اسْتَخَفَّ بِالْقُرْآنِ أَوِ الْمُصْحَفِ أَوْ بِشَيْءٍ مِنْهُ أَوْ سَبَّهُمَا أَوْ جَحَدَهُ أَوْ حَرْفًا مِنْهُ أَوْ آيَةً أَوْ كَذَّبَ بِهِ أَوْ بِشَيْءٍ مِنْهُ أَوْ كَذَّبَ بِشَيْءٍ مِمَّا صُرِّحَ بِهِ فِيهِ مِنْ حُكْمٍ أَوْ خَبَرٍ أَوْ أَثْبَتَ مَا نَفَاهُ أَوْ نَفَى مَا أَثْبَتَهُ عَلَى عِلْمٍ مِنْهُ بِذَلِكَ أَوْ شَكَّ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ فَهُوَ كَافِرٌ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِإِجْمَاعٍ قَالَ اللهُ تَعَالَى (وَإِنَّهُ لَكِتَابٌ عَزِيزٌ لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ). (سورۃ فصلت: 41-42) (کتاب الشفاء، جلد: 2، الباب الثالث: فی حکم من سب اللہ وملائکتہ، الفصل التاسع: حکم من استخف بالقرآن، صفحہ: 597، دار الفکر بیروت) جان لیجیے! جس شخص نے قرآن مجید کی یا اس میں سے کسی حصے کی یا مصحف کی توہین کی یا قرآن کو گالی دی یا قرآن میں سے کسی حرف کا، یا آیت کا انکار کیا، یا قرآن کو، یا اس میں سے کسی شی کو جھٹلایا، یا ہر وہ حکم یا خبر جس کی قرآن میں صراحت کی گئی ہے، اس میں سے کسی حصے کو بھی جھٹلایا، یا قرآن میں اس چیز کو ثابت کیا جس کی قرآن نے نفی کی ہے، یا اس چیز کی نفی کی جس کو قرآن نے ثابت کیا ہے، یا اس نے قرآن مجید کی کسی شیء کے بارے میں شک کیا، حالانکہ اس بندے کو اس کے بارے میں علم تھا یا قرآن مجید کے کسی حکم یا خبر کے بارے میں شک کیا تو وہ اہلِ علم کے نزدیک بالاجماع کافر ہے۔ 2: امام محی الدین ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی متوفی 676ھ لکھتے ہیں: وَأَجْمَعَتِ الْأُمَّةُ عَلَى وُجُوبِ تَعْظِيمِ الْقُرْآنِ عَلَى الْإِطْلَاقِ وَتَنْزِيهِهِ وَصِيَانَتِهِ: وَأَجْمَعُوا عَلَى أَنَّ مَنْ جَحَدَ مِنْهُ حَرْفًا مِمَّا أَجْمَعَ عَلَيْهِ أَوْ زَادَ حَرْفًا لَمْ يَقْرَأْ بِهِ أَحَدٌ وَهُوَ عَالِمٌ بِذَلِكَ فَهُوَ كَافِرٌ: وَأَجْمَعُوا عَلَى أَنَّ مَنِ اسْتَخَفَّ بِالْقُرْآنِ أَوْ بِشَيْءٍ مِنْهُ أَوْ بِالْمُصْحَفِ أَوْ أَلْقَاهُ فِي قَاذُورَةٍ أَوْ كَذَّبَ بِشَيْءٍ مِمَّا جَاءَ بِهِ مِنْ حُكْمٍ أَوْ خَبَرٍ أَوْ نَفَى مَا أَثْبَتَ أَوْ أَثْبَتَ مَا نَفَاهُ أَوْ شَكَّ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَهُوَ عَالِمٌ بِهِ كَفَرَ. (المجموع شرح المہذب، جلد: 3، کتاب الطہارۃ، باب ما یوجب الغسل، صفحہ: 113، دار الکتب العلمیہ بیروت) امت نے قرآن مجید کی علی الاطلاق تعظیم اور قرآن مجید کے نسخے کی علی الاطلاق تعظیم اور اس کو ہر آلودگی سے منزہ رکھنے اور اسے ہر آلودگی سے محفوظ رکھنے پر اجماع کیا ہے۔ اور اس پر بھی امت نے اجماع کیا ہے کہ جس شخص نے ایسے ایک حرف کا بھی انکار کیا جس کے قرآنی حرف ہونے پر اجماع ہے۔ یا ایک حرف بھی زائد کیا جو کہ کسی بھی قرأت میں بھی نہیں ہے۔ اگر اس نے یہ سب کچھ جان بوجھ کے کیا ہو تو وہ کافر ہے۔ اور امت نے اس بات پر اجماع کیا ہے کہ جس بندے نے پورے قرآن مجید کے نسخے کی یا اس میں سے کچھ حصے کی یا مصحف کی توہین کی، یا اسے گندگی میں پھینکا، یا قرآن مجید جو خبر لے کے آیا، اس کو یا جس نے جھٹلایا، یا قرآن مجید نے جس کو ثابت کیا، اس کی اس نے نفی کی، یا قرآن مجید نے جس کی نفی کی اس نے اس کو ثابت کیا، یا اس میں سے کسی بھی چیز کے بارے میں اس نے شک کیا، حالانکہ وہ اس بارے میں جانتا تھا یعنی قرآنی احکام کیا ہیں، تو وہ کافر ہو جائے گا۔ 3: قاضی برہان الدین مالکی مدنی متوفی 799ھ اپنی مشہور زمانہ کتاب تبصرۃ الحکام میں لکھتے ہیں: وَمَنِ اسْتَخَفَّ بِالْقُرْآنِ أَوْ بِشَيْءٍ مِنْهُ أَوْ جَحَدَهُ أَوْ حَرْفًا مِنْهُ، أَوْ كَذَّبَ شَيْئًا مِنْهُ، أَوْ أَثْبَتَ مَا نَفَاهُ، أَوْ نَفَى مَا أَثْبَتَهُ عَلَى عِلْمٍ مِنْهُ بِذَلِكَ، أَوْ شَكَّ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ فَهُوَ كَافِرٌ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِإِجْمَاعٍ. (تبصرۃ الحکام فی اصول الاقضیۃ، الجزء: 2، فصل: من سب اصحاب واز واجہ ﷺ، صفحہ: 276، المکتبۃ الازہر للتراث) جس بندے نے پورے قرآن مجید کی یا اس کے کچھ حصے کی معاذ اللہ توہین کی یا پورے قرآن مجید کا یا اس سے ایک حرف کا انکار کیا یا قرآن مجید کی کسی شی کو جھٹلایا یا قرآن مجید نے جس شی کی نفی کی ہے اس کو ثابت کیا، یا جس کو قرآن نے ثابت کیا ہے اس کی نفی کی جبکہ اسے پتا تھا کہ یہ قرآن میں سے ہے، یا اس نے قرآن مجید کی کسی شیء کے بارے میں شک کیا، ان تمام صورتوں میں اہلِ علم کے نزدیک وہ بالاجماع کافر ہے۔ 4: علامہ ابن حجر ہیتمی مالکی متوفی 974ھ اپنی مشہور کتاب الاعلام بقواطع الاسلام میں لکھتے ہیں: أَوْ زِيَادَةُ حَرْفٍ فِيهِ. (الاعلام بقواطع الاسلام، الفاظ والافعال التی توقع فی الکفر، صفحہ: 86، دار التقویٰ سریہ دمشق) علامہ ابن حجر ہیتمی نے کفریہ مقام گنواتے ہوئے یہ لکھا کہ قرآن مجید میں ایک حرف کا بھی اضافہ کرنا کفر ہے۔ 5: التبیان فی آداب حملۃ القرآن میں ہے: أَجْمَعَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى وُجُوبِ تَعْظِيمِ الْقُرْآنِ الْعَزِيزِ عَلَى الْإِطْلَاقِ، وَتَنْزِيهِهِ وَصِيَانَتِهِ، وَأَجْمَعُوا عَلَى أَنَّ مَنْ جَحَدَ مِنْهُ حَرْفًا مِمَّا أَجْمَعَ عَلَيْهِ، أَوْ زَادَ حَرْفًا مِمَّا لَمْ يَقْرَأْ بِهِ أَحَدٌ، وَهُوَ عَالِمٌ بِذَلِكَ، فَهُوَ كَافِرٌ. (التبیان فی آداب حملۃ القرآن، الباب التاسع: فی آداب الناس کلھم مع القرآن، صفحہ: 192، مکتبہ ابن عباس) مسلمانوں کا قرآن مجید کی علی الاطلاق تعظیم کے فرض ہونے پر اجماع ہے۔ ایسے ہی قرآن کی تنزیہ اور قرآن کی حفاظت پر بھی اجماع ہے اور مسلمانوں نے اس بات پر بھی اجماع کیا ہے کہ جو قرآن مجید میں سے کسی حرف کا انکار کرے جو کہ قرآن مجید میں سے ہے یا قرآن مجید میں ایک حرف بھی زائد کرے جو کہ کسی بھی قرأت میں نہیں ہے اور وہ بندہ جانتا بھی ہو تو وہ بندہ کافر ہے۔ 6: امام نووی مزید فرماتے ہیں: وَقَدْ أَجْمَعَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى ..... أَنَّ جَمِيعَ مَا فِيهِ حَقٌّ، وَأَنَّ مَنْ نَقَصَ مِنْهُ حَرْفًا قَاصِدًا لِذَلِكَ، أَوْ بَدَّلَهُ بِحَرْفٍ آخَرَ مَكَانَهُ، أَوْ زَادَ فِيهِ حَرْفًا مِمَّا لَمْ يَشْتَمِلْ عَلَيْهِ الْمُصْحَفُ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهِ الْإِجْمَاعُ، وَأَجْمَعَ عَلَيْهِ أَنَّهُ لَيْسَ بِقُرْآنٍ، عَامِدًا لِكُلِّ هَذَا فَهُوَ كَافِرٌ. (التبیان فی آداب حملۃ القرآن، الباب التاسع: فی آداب الناس کلھم مع القرآن، صفحہ: 193، مکتبہ ابن عباس) اس بات پر بھی مسلمانوں کا اجماع ہے کہ ..... جو کچھ بھی قرآن مجید میں ہے وہ حق ہے اور بے شک جس نے ارادی طور پر قرآن مجید سے کوئی ایک حرف بھی کم کیا یا ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف رکھا یا قرآن مجید میں کسی ایک حرف کا بھی اضافہ کیا جو کہ اس مصحف میں موجود نہیں جس پر اجماع ہوا ہے اور اس بات پر بھی اجماع ہے کہ یہ قرآن نہیں ہے، اس نے یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا تو وہ کافر ہے۔ تبصرہ: ان تمام ائمہ نے قرآن میں ایک حرف کے اضافے کو بھی کفر کہا ہے۔ جبکہ مرزا جہلمی نے الحاد اور تحریف معنوی سے قرآنی حکم بیان کرتے ہوئے اپنی طرف سے پورے ایک جملے کا اضافہ کیا ہے اور جملہ بھی وہ جو مبینہ طور پر توہینِ رسالت ﷺ پر مشتمل ہے اور اس جملے کو جب اس نے اللہ تعالیٰ کا فرمان قرار دیا ہے تو اس نے اللہ تعالیٰ کی توہین بھی کی ہے اور اللہ تعالیٰ پر تہمت بھی لگائی ہے۔ ان میں سے ہر جرم دوسرے سے بڑھ کر ہے۔ مرزا جہلمی کے جرمِ الحاد فی القرآن اور تحریف معنوی کی سزا علامہ قاضی عیاض مالکی شافعی متوفی 544ھ کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ میں تحریف قرآن کے جرم کی سزا بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وَأَنَّ جَمِيعَ مَا فِيهِ حَقٌّ، وَأَنَّ مَنْ نَقَصَ مِنْهُ حَرْفًا قَاصِدًا لِذَلِكَ أَوْ بَدَّلَهُ بِحَرْفٍ آخَرَ مَكَانَهُ أَوْ زَادَ فِيهِ حَرْفًا مِمَّا لَمْ يَشْتَمِلْ عَلَيْهِ الْمُصْحَفُ الَّذِي وَقَعَ الْإِجْمَاعُ عَلَيْهِ وَأَجْمَعَ عَلَى أَنَّهُ لَيْسَ مِنَ الْقُرْآنِ عَامِدًا لِكُلِّ هَذَا أَنَّهُ كَافِرٌ. وَلِهَذَا رَأَى مَالِكٌ قَتْلَ مَنْ سَبَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِالْفِرْيَةِ لِأَنَّهُ خَالَفَ الْقُرْآنَ وَمَنْ خَالَفَ الْقُرْآنَ قُتِلَ أَيْ لِأَنَّهُ كَذَّبَ بِمَا فِيهِ. (کتاب الشفاء، جلد: 2، الباب الثالث: فی حکم من سب اللہ وملائکتہ، الفصل التاسع: حکم من استخف بالقرآن، صفحہ: 597، دار الفکر بیروت) بے شک جو قرآن مجید میں ہے وہ حق ہے اور جس شخص نے ارادی طور پر قرآن مجید سے کوئی حرف کم کیا، یا قرآن کے کسی حرف کی جگہ کوئی اور حرف رکھا، یا قرآن میں کسی حرف کا اضافہ کیا، ایسا حرف کہ جو اس مصحف میں نہیں ہے جس پر اجماع واقع ہو چکا ہے اور اس پر اجماع کیا گیا ہے کہ وہ قرآن میں سے نہیں ہے۔ جس نے جان بوجھ کر یہ سب کیا تو وہ کافر ہے۔ اسی لیے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جس شخص نے (نزولِ قرآن کے بعد) حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر افک والا الزام لگایا تو اس نے قرآن کی مخالفت کی، اور جس نے قرآن کی مخالفت کو قتل کیا جائے گا۔ کیونکہ اس نے جو کچھ قرآن میں ہے اس کی تکذیب کی۔ نوٹ: جس طرح مرزا جہلمی نے سورہ مائدہ کی آیت نمبر 5 میں الحاد اور تحریف معنوی کا ارتکاب کیا ہے اور اللہ تعالیٰ پر معاذ اللہ اتہام کیا ہے۔ ایسے ہی مرزا کی کچھ اور شرکیہ گفتگو بھی ہے۔ جس کو مرزا نے معاذ اللہ واضح طور پر اللہ تعالیٰ کا فرمان قرار دیا ہے۔ (نقل کفر کفر نباشد) مرزا نے کہا ہے: نمبر 1: ”اللہ تعالیٰ آپ کو یہ آفر دیتا ہے کہ صرف یہ 60 سال کی زندگی مجھے دے دو تمہیں بھی میں ایک منی خدا بنا دوں گا۔“ نمبر 2: (اللہ تعالیٰ نے کہا:) ”ہمیشہ کی زندگی بھی تمہیں دیتا ہوں اور کن فیکون بھی تمہیں دیتا ہوں۔“ یہاں دو باتیں قابلِ گرفت ہیں۔ پہلے نمبر تو یہ دونوں جملے ہی شرکیہ ہیں۔ اس پر ہم تفصیلاً بتا چکے ہیں کہ کسی بندے کو منی خدا کہنا یہ شرک ہے۔ ایسے ہی کسی بندے کو کن فیکون کا مالک ہونے کی کالٹی کرنا بھی شرک ہے۔ اور پھر دوسرے نمبر پر مرزا جہلمی نے یہ دونوں باتیں جو بذاتِ خود شرک ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف منسوب کیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کا ایسا کوئی فرمان نہ قرآن مجید میں ہے اور نہ ہی حدیثِ قدسی میں ہے۔ ھٰذَا مَا عِنْدِي وَاللہُ تَعَالیٰ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب وصلی اللہ تعالیٰ حبیبہ سیدنا محمد و آلہ و اصحابہ اجمعین والسلام مع الف اکرام محمد اشرف آصف جلالی مہتمم مرکز صراطِ مستقیم پاکستان 07 جمادی الاولیٰ 1447ھ / 30 اکتوبر 2025ء دستخط: محمد اشرف آصف جلالی مفتی ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی پرنسپل مرکز صراطِ مستقیم تاج باغ فیز III لاہور

پی ڈی ایف دستاویز