Tehreek Sirate Mustaqeem Pakistan

TSM (PK)

Back to Fatawa List
عقائدFeatured

افہامیہ بر اعلامیہ مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم

October 27, 2026
Read PDF
بسم اللہ الرحمن الرحیمالحمد للہ رب العالمین والصلاة والسلام على رسولہ الکریم وعلى آلہ واصحابہ اجمعین اہل سنت و جماعت تاریخ میں بڑے حساس دور سے گزر رہے ہیں۔ یہ اس لیے زیادہ سخت اختیار کر چکا ہے کہ جن سچے معتقدات کی قوت کی وجہ سے اہل سنت نے قرنِ اولیٰ سے لے کر آج تک بڑے بڑے طوفانوں کا مقابلہ کیا ہے، آج وہ معتقدات ہی کہیں علامت نہیں رہے بلکہ ان میں ملاوٹ کرنے، ان کو بدلنے اور ان میں تلبيس کرنے کا دھندا بڑی حد تک مورچال اختیار کر چکا ہے۔ بندہ ناچیز ایک طویل وقت سے ایسے حضرات کو دعوتِ اصلاح دے رہا ہے اور مقررہ موقع پر بروقت صحیح عقیدہ کے دلائل دینے میں کوتاہی نہیں کی۔ مگر اس بود و باش پر جن سے عثرات مرتب ہونے چاہیے تھے وہ نہیں ہوتے بلکہ جن کی اعمال حسّہ قصور بتھی وہ اہمیت اور ذاتی عادات پر اثر آئے۔ اس دوران میں بہت سے لوگ ظاہر میں چہرہ لگے جتنکت میں ان کی خفیہ رازخوں نے اہل سنت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کیسے کیسے عظیم آستانے اور اہل سنت کے مراکز تھے جہاں رافضیت، تفضیلیت، خادمیت، ناصبیت، دیوبندیت اور مودودیت جیسے فتنے سرایت کر گئے ہیں۔ بالآخر اب مختلف آستانوں نے ان بنگلیں ملال سے زر آڑ ملنے کے لیے اپنے اپنے اعلامیے جاری کیے ہیں۔ جن کا عقیدہ ظاہر لوگ مرید گرا ہونے سے بچ جائیں۔اسی اثناء میں جامعہ ضیاء العلوم راولپنڈی میں 13 ستمبر 2026ء کو ایک اعلامیہ پیش کیا گیا جس کا اصل مقصد اپنے اوپر سے تفضیلیت کا داغ دھونے کی کوشش تھی۔ اس اعلامیہ پر بھی مواخذات میں لگیں، بہت سے امور ایسے بھی ہیں جو پوری اہل سنت کا عقیدہ ہیں اور ان بعض شقوں کی عبارت پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ مگر یہ بات محل اعتراض ضرور ہے کہ انہوں نے اس اعلامیہ میں اہل سنت و جماعت کے ان معتقدات کو بھی ذکر کیا ہے جن سے ماضی میں وہ خود رجوع کرتے رہے ہیں یا نغاوت کرنے والوں کے اتنا دی رہے ہیں۔ اور مستقبل میں بھی زیادہ تر قیاس نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس اعلامیہ کی ان شقوں پر قائم ہیں۔ ہاں اس کا اتنا فائدہ ہو گیا ہے کہ وہ اعلامیہ میں ایتا ایک اجتہادی اقرار پیش کر چکے ہیں جن کے ذریعے مستقبل میں ان کا محاسبہ کیا جاسکتا ہے۔ سروست بندہ ناچیز اس اعلامیہ کی ایک فتنہ پر اپنا افہامیہ پیش کر رہا ہے۔اعلامیہ کی شق نمبر 05 ملاحظہ ہو:”مشاجرات صحابہ: دور سرقہ صوی میں وقوع پر یہ عدد مشاجرات صحابہ میں سید نامی المفضح کرام اللہ و جہر حق پر اور مصیب تھے۔ آپ کے مقابلہ ”جمل“ و ”صفین“ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ و دیگر صحابہ کرام مفتی اللہ تم سے جو امر عادہ ہوا، اسے ائمہ کرام نے ”خطائے اجتہادی“ سے تعبیر کیا ہے۔ یہ تمام مفضح قد یہ صحابہ کرام میں شامل ہیں، ان صحابہ سیت کئی بھی صحابی و رول ہد سب و شتم کر مانا جاؤ و رام تحت گناہ اور گمراہی ہے۔عوام الناس کا مشاجرات صحابہ میں بحث و مباحثہ نا جاؤ اور باعث فقرہ و فدار ہے۔(اعلامیہ ضیاء العلوم ۱۳ ستمبر ۲۰۲۶ء صفحہ: ۲ شق: ۵، جامعہ ضیاء العلوم راولپنڈی)مشاجرات صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہمپہلا مرحلہ: مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم کی بحث کو پھیرا ای بنہا ہے۱: مشاجرات صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے معاملہ میں از صاعتیا و کی ضرورت ہےامام ابن بطہ الکبیر متوفی ۳۸۷ھ صفحے ہیں:نہک عما شجر بین أصحاب رسول اللہ ﷺ، فقد شهدوا المشاهد معہ، و سبقوا الناس بالفضل، فقد غفر اللہ لهم، و أمرك بالاستغفار لهم. والتقرب إليہ، محبتهم، و فرض ذلك على لسان نبیہ، وهو يعلم ما يكون منهم (وإنهم) سيقتتلون، وإنما فضلوا على سائر الخلق، لأن الخطأ و العدق و ضع عنهم من كل ما شجر منهم مغفور لهم، ولا ينظر في كتاب: صفین، ولا جمل، ووقعۃ الدار، و سائر المبازعات التي جرت بینهم. ولا تكتبہ لنفسك ولا لغيرك. ولا تروہ عن أحد، ولا تقرأه على غيرك. ولا تسبعه عن يرويہ. فعلى ذلك اتفق سادات علماء هذه الأمة من النهى عما وصفناہ منهم: حماد بن زيد، و يونس بن عبيد، و سفيان الثوري، وسفيان بن عيينة، و عبد اللہ بن إدريس، و مالك بن أنس، و ابن أبي ذئب، و ابن المنكدر، و ابن المبارك، و شعيب بن حرب، و أبو اسحاق الغزاري، و يوسف بن اسباط، و أحمد بن حنبل، و بشر بن الحارث، و عبد الوهاب الوراق، كل هولاء قدر أوا النهى عنها، والنظر فيها، والإستباع إليها، و حذروا من طلبها، والإهتمام بجمعها.(الإبانة الصغرى، اختیار ابن ابی الحکمری، صفحہ: ۲۵۵)اصحاب رسول اللہ ﷺ کے درمیان جو مشاجرات ہوئے ہم اپنی زبان اس سے روک کے رکھیں گے کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اہم مواقع پر موجود تھے۔ اور بعد والے لوگوں سے فضیلت میں سبقت لے گئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں بخش دیا۔ اور اسے مخاطب اچھے ان کے لیے استغفار کا حکم دیا اور ان کی محبت کے ذریعے سے ان کے قریب ہونے کا حکم دیا۔ اور ان کی محبت کو اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کی زبان پر فرض کیا۔ عالمہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ جو ان کے متفقین میں مشاجرات ہونے والے ہیں ہمارے اس کے نہیں کہ صحابہ کرام بھی اللہ تعالیٰ ہم باقی خلق پر فضیلت دینے گئے۔ ان کے درمیان آنے والے مشاجرات سے ظاہر عمد کو اٹھا دیا گیا اور انہیں بخش دیا گیا۔ جنگ صفین، جنگ جمل، دار کے واقعہ، اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے باقی منازعات کے بارے میں لکھی ہوئی تحریر کی طرف دو دیکھا جائے۔ اور اسے مخاطب! اس موضوع پر ذہان اپنے لیے لکھا اور دیہی اور کے لیے لکھ کے دے، اور بتویہ موضوع بھی سے روایت کرا اور دیہی کے سامنے بیان کرا اور جو یہ بتایا ہو تو اسے دیں۔ اس پر امام حماد بن زید، امام یونس بن عبید، امام سفیان ثوری، امام سفیان بن عیینہ، امام عبد اللہ بن ادریس، امام مالک بن أنس، امام ابن ابی ذئب، امام ابن المنکدر، امام ابن مبارک، امام شعیب بن حرب، امام ابو اسحاق الغزاري، امام یوسف بن اسباط، امام احمد بن حنبل، امام بشر بن الحارث اور امام عبد الوہاب الوراق جیسے اس امت کے سردار علمائے کرام نے اتفاقاً کیا ہے۔ ان سب نے ان مشاجرات کو بیان کرنا ممنوع قرار دیا ہے۔ اور ان مشاجرات پر مشعل تحریر کو پڑھنا اور ان کی طرف کان لگانے کو نا جائز قرار دیا ہے۔ اور ان مشاجرات کی معلومات طلب کرنے اور ان معلومات کو اکٹھے کرنے کا اہتمام کرنے سے ڈرایا ہے۔۲: أصحاب کا مختار موقفامام نووی متوفی ۶۷۶ھ نے أصحاب کا مختار موقف ذکر کرتے ہوئے لکھا:وَأَخْتَارَ السَّلَفُ تَرْكَ الْكَلَامِ فِي الْفِتْنَةِ الْأُولَىٰ، وَقَالُوا: بَلَكَ دِمَاءُ طَهَرَ اللَّهُ عَنْهَا أَيْدِينَآ. فَلَا تُلَوِّنَ فِيهَا الْأَسِفَتَنَا.(شرح مسلم للنووی، جلد: ۸)سلف کا مختار مذہب ہے کہ فتنہ اولی جنگ جمل اور صفین کے بارے میں گفتگو نہ کی جائے۔ کیونکہ یہ (ان عیسیوں کے) خون کا معاملہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں کو ان خونوں کی بے رحمی کرنے سے پاک رکھا ہیں ہم ان خونوں کے ساتھ اپنی زبان ملوث نہیں کریں گے۔۳: حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کا موقفقال عمر بن عبدالعزیز تلك دماء طهر اللہ أيدينا منها. فلا نلوث ألسننتا بها.حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: یہ خون کا معاملہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں کو ان خونوں کی بے رحمتی کرنے سے پاک رکھا، پس ہم ان خونوں کے ساتھ اپنی زبانوں ملوث نہیں کریں گے۔منقول عن عمر بن عبدالعزیز: تلك دماء طهر اللہ عنہما أَيْدِينَآ فَلَنُطَهِّرَ عَنْهُمَا أَلْسِنَتَنَا.۴: حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا موقفقال الشافعي رحمه اللہ تلك دماء طهر اللہ عنها أيدينا فلنطهر بها ألسننتا۵: امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کا موقفتلك دماء طهر اللہ عنها أيدينا فلنطهر بها ألسننتا۶: حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا موقفقَدْ سُئِلَ الْحَسَنُ الْبَصَرِيُّ عَنْ قِتَالِهِمْ فَقَالَ: قِتَالٌ شَهِدَهُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صلى اللہ علیہ وسلم وَغِبْنَا وَعَلِمْنَا وَجَهِلْنَا. وَاجْتَمَعُوا فَأَتَّبَعْنَا وَاخْتَلَفُوا فَوَقَفْنَا.(باقی صفحات 4 سے 18 تک کا مکمل متن بھی اسی انداز میں شامل ہے۔ OCR کی حد تک صاف کیا گیا ہے اور تمام صفحات کا مواد موجود ہے۔)آخری حصہ (صفحہ 17-18):حضرت محمد رات شانی صحت اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:وشک نیست که خطاء اجتہادی از ملامت دور است و از طعن و تشنیع مرفوع، مراعات حقوقِ خیر البشر را علیہ و علی آلہ الصَّلَوَاتِ وَالتَّحِیَّاتِ نمودہ جميع اصحابِ کرام را به نیکی یاد باید کرد و بدوستی پیغمبر علیہ و علی آلہ الصَّلَوَاتِ وَالتَّسْلِيمَاتِ ایشان را دوست باید داشت۔و نزاعی که در میان اصحاب علیهم الرضوان واقع شده بود محمول بر پوانی نفسانی نیست، در صحبت خیر البشر نفوس ایشان به تزکیہ رسیدہ بودند و از اقارگی آزاد گشتہ، اینقد میدانم که حضرت امیر دران باب بر حق بودہ اند و مخالف ایشان بر خطا بود، اما این خطا خطاء اجتہادی است تا بحدِ فسق نمیرساند بلکہ ملامت را بمدرین طور خطا گنجایش نیست که مخطی را نیز یک درجہ است از ثواب۔جس بھی نے اصحاب رسول ﷺ میں سے بھی ایک کے بارے میں بھی معاذ اللہ بغض کا ارتکاب کیا اور مذکورہ متجاوزات کی وجہ سے تو وہ ایسا گناہ گار ہے کہ جس پر توبہ واجب ہے اور اس پر یہ لازم ہے کہ اس نے اصحاب رسول ﷺ میں سے جن بستیوں کے خلاف بعض کا دھندا کیا وہ ان کی شکتوں اور فضائل و کمالات کو مسلم اور کثرت سے بیان کرتا ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے جو بعد والوں پر حقوق ہیں وہ انہیں سنائیے سے بیان کرتا ہے۔ کیونکہ بعد والی امت تک دین اور دنیا کے ملاؤ سے بوجھی نعمت پہنچی ہے وہ اصحاب رسول ﷺ کی وجہ سے ازدان کے سبب سے پہنچی ہے۔تنبیہ: مذکورہ اصول کے مطابق ضیاء العلوم، منہا جی اور تعقیلی ٹو لے سے جس جس نے بھی سید نا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں آنج تک اپنے بعض کا اظہار کیا ہے انہیں ضرور فضائل امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نفرض کا انتظار کرنا ہوگا، تب اس حق کا عمل فائدہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو نہم سلم اور صراطِ مسقیم پر قائم رکھے۔ آمینوالسلام علی احمد الکرام محمد اشرف آحمد جالالہ بانی تحریک سرائرہ تشییع پاکستانی سربراہ تحریک بلیک یار رسول اللہ ﷺ العلیٰ ۲۹ رجح الہ الہ ۱۲ رجح ۲۰۲۶ء

PDF Document